سکس سگما ہاسپٹل معاملے میں جمعیۃ علماء سلیمانی چوک کے وفد کی اسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات
مورخہ ۱۱؍جون بروز جمعہ شام ۵ ؍بجے سکس سگما ہاسپٹل پر کارپوریشن کی جانب سے کی گئی تادیبی کارروائی کے تناظر میں جمعیۃ علماء سلیمانی چوک کےایک مؤقر وفد نے کارپوریشن پہنچ کر کمشنر صاحب سے ملاقات کرناچاہی تو معلوم ہوا کہ کمشنر سفر پر ہیں۔ لہٰذا وفد کی جانب سےکمشنر سے فون پر بات کی گئی اورکمشنر کی ایماء پر اسسٹنٹ کمشنر راجو کھیرنار سے وفد نے تفصیلی ملاقات کی ۔ اور اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ چونکہ سکس سگما ہاسپٹل میں ۹۰ ؍ کے قریب کڈنی فیل مریضوں کا ڈائلیسیس ہوتا ہے ایسے حالات میں ہاسپٹل کے خلاف انتہائی کارروائی اُن مریضوں کےساتھ ظلم ہے ۔ اِسی کے ساتھ ساتھ جیون دائی یوجنا کے تناظرمیں غریب *مریضوں کا مفت آپریشن اور علاج بھی سکس سگما ہاسپٹل میں ہی ہوتا ہے ۔ اس لیے ایسے میں ہاسپٹل کو بند کرنا عوام کی جان سے کھلواڑ ہے ۔ لہٰذا کارپوریشن انتظامیہ اور *کمشنر صاحب سکس سگما ہاسپٹل کے بارے میں اِنتہائی کارروائی سے پہلے اِن تمام باتوں کا بھی خیال رکھیں نیز جن نکات پر سکس سگما ہاسپٹل کو بند *کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے وہ ایسے نہیں ہے کہ اُن کا کوئی متبادل حل نہیں نکالاجاسکتا اس لیے کہ جمعیۃکے وفد نے اِس سنگین وبائی صورت حال میں ایسے حالات پیش آنے پر سکس سگما ہاسپٹل میں بھی حاضری لگائی اور *پورے معاملے کی جانکار ی حاصل کی ہے ، جمعیۃ علماء کا یہ احساس ہے کہ اگر کارپوریشن اسی طرح اسپتالوں کے خلاف کارروائی کرتی رہی تو شہری عوام طبّی بحران کاشکار ہوجائے گی ۔ اس لیے جمعیۃ کے وفد نے اسسٹنٹ کمشنر راجو کھیرنار صاحب سے صاف اور دو ٹوک مطالبہ کیاکہ سکس سگما ہاسپٹل کے خلاف کارروائی اس طرح نہ کی جائے کہ غریب مریض در در کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہو جائیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے وفد کی باتیں بغور سننے کے بعد تیقن دیاکہ آپ جیسے شہر *کے ذمہ داران کی باتوں کو میں کمشنرصاحب کے سامنے اچھے ڈھنگ سے رکھوں گا اور انتظامیہ مثبت اورایسا فیصلہ لے گی جس سے کسی کو کسی طرح کی کوئی طبی پریشانی نہ ہو۔اس وفد میں صدر جمعیۃ علماء مالیگاؤں مولانا آصف شعبان صاحب اور دیگر عہدیداران میں حافظ انیس اظہر ملی ، شاکر شیخ سر ، قاری اخلاق احمدجمالی ،حافظ عبدالعزیز رحمانی ،حافظ جمیل احمداشاعتی ، مفتی محمد طفیل قاسمی ، مفتی عبداللہ ہلال ، مولانا اسماعیل جمالی ، مولاناعبدالرحیم بیتی ، عبدالصمد جنتا، حاجی ادریس ، صابر شیخ، فیروز بھائی وغیرہ شریک رہے







کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں