src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> ہوشیار, خبردار! مالیگاؤں میں بچوں کو اغواء کرنے والوں کا گروہ سرگرم , - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

منگل، 8 جون، 2021

ہوشیار, خبردار! مالیگاؤں میں بچوں کو اغواء کرنے والوں کا گروہ سرگرم ,

 



ہوشیار, خبردار! مالیگاؤں 

میں بچوں کو اغواء کرنے

 والوں کا  گروہ سرگرم ,

والدین میں خوف و ہراس کا ماحول





مالیگاؤں (نامہ نگار) انسانی تجارت کا معاملہ ماضی کا قصہ ہو کر رہ گیا ہے لیکن گاہے بگاہے معصوم بچوں کے اغواء کی خبریں آج بھی عام ہوتی رہتی ہیں. اغواء کار افراد بچوں کو چاکلیٹ اور شیرینی دینے کے بہانے اٹھا لے جاتے ہیں. بہت سے بچے اپنی حکمت عملی کے سبب ان شیطانوں کے چنگل سے بچ نکلتے ہیں لیکن چند ایک معاملات ایسے بھی ہوئے ہیں کہ برسوں بعد بھی اغواء شدہ بچوں کی دستیابی نہیں ہو سکی ہے. گزشتہ دنوں ایک ملزم نے ایک معصوم بچی کو شیرینی دینے کے بہانے اٹھا لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ بچی اندھیروں سے خوف کھاتے ہوئے واپس اپنے مکان تک آگئی تھی لیکن ملزم قانون کی دسترس سے دور کہیں گم ہو کر رہ گیا. تلاش بسیار کے باوجود جب اغواء کار ملزم کا کوئی پتہ دستیاب نہیں ہوا تو بحالت مجبوری مطلوبہ حلقہ کے پولیس عملہ نے اس مقام سے سی سی ٹی وی فوٹیچ حاصل کرتے ہوئے ملزم کے چہرے کی تشہیر کی اور اس کا پتہ بتانے والے کے لئے 10 ہزار روپیے انعام کا اعلان کیا ہے. یہ معاملہ ابھی زیر بحث ہی تھا کہ شہر کے مضافاتی علاقہ میں موجود علامہ اقبال پل سے دو بچوں کے اغواء ہونے کی خبریں شہر میں خوف و ہراس پھیلا گئیں. معاملہ جب پھیلا تو مذکورہ علاقہ کے رکن بلدیہ ساجد عبدالرشید نے نہ صرف اپنے علاقہ بلکہ شہر بھر میں اعلان کے ذریعے والدین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نگاہ رکھیں. انھیں دور دراز کے مقامات پر تنہا جانے نہ دیں. انھوں نے مزید آگاہی دیتے ہوئے شہریان کو خبردار کیا ہے کہ شہر میں اغواء کاروں کا کوئی گروہ سرگرم ہے اس لئے اپنے بچوں پر حد درجہ دھیان دیں. اس کے برعکس دیکھا جائے تو آج شہر میں بیرون شہر کی ہزار ہا خاتون بھکاریوں کی تعداد گھوم رہی ہے. ہو سکتا ہے کہ ان ہی خاتون بھکاریوں میں سے چند ایک اغواء کے اس کھیل میں ملوث ہوں. بے شمار افراد نے محمکہ پولیس سے بھی اپیل کی ہے کہ ہندوستان کے دور دراز شہروں سے آنے والی ان خاتون بھکاریوں پر سختی سے نظر رکھنے کی کوشش 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages