جلگاؤں پولس کا شرمناک کارنامہ !
پولیس نے جلگاؤں میں گرلز ہاسٹل سے لڑکیوں کے کپڑے اترواکر فحش ڈانس کرایا
مہاراشٹر کے جلگاؤں سے ایک حیران کن خبر سامنے آرہی ہے۔ جہاں پولیس اہلکاروں اور کچھ دیگر لوگوں کے گرلز ہاسٹل میں گھس کر لڑکیوں سے زبردستی فحش ڈانس کرانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری آشادیپ مہیلا چھاتر واس ویمن ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیوں سے کپڑے اتار کر ڈانس کروایا گیا۔ کچھ پولیس اہلکار (مہاراشٹر پولیس) اور ہاسٹل کے باہر سے آئے ہوئے کچھ آدمی اس واقعے میں ملوث بتائے جارہے ہیں ۔ ایک سماجی تنظیم نے اس معاملے کو بے نقاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے شکایت کی ہے۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیجیت راؤت نے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ستارا کی گنیش کالونی میں واقع ہاسٹل میں خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمہ کی جانب سے ، بے سہارا ، ہراساں اور متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس ہاسٹل میں کچھ غیر اخلاقی کام ہو رہا تھا ، ایسی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ حقیقت اس وقت سامنے آئی جب مقامی جن نایک فاؤنڈیشن کے صدر فیروز پنجاری ، فرید خان ، منگلا سونونے جیسے سماجی کارکنوں نے ہاسٹل میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں سے بات کی۔
یہ واقعہ یکم مارچ کا ہے۔ تفتیش کے نام پر کچھ پولیس اہلکار اور دیگر افراد ہاسٹل میں داخل ہوئے۔ ان لوگوں نے لڑکیوں کے کپڑے اتروا کر ڈانس پر مجبور کیا۔ جن لڑکیوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ان کو مار پیٹ کی دھمکیاں دی گئیں۔
جب اس بارے میں تفصیل سے جاننے کے لئے سماجی کارکن وہاں پہنچے تو انہیں جانے سے روک دیا گیا۔ لڑکیوں نے کھڑکیوں سے چیخ چیخ کر ساری بات بتائی۔ جس وقت لڑکیاں اپنا حال بتا رہی تھیں اس وقت بھی ہاسٹل کا عملہ ان کے ساتھ روک ٹوک کررہاتھا ، اور بعد میں انہیں دیکھ لینے کی دھمکی دے رہا تھا۔
کچھ دن پہلے مہاراشٹر کے بیڑ شہر میں لڑکیوں کے ہاسٹل سے ایک خبر آئی تھی۔ یہاں کے گرلز ہاسٹل کے آئسولیشن سینٹر میں لڑکیوں کے لباس پر فحش باتیں لکھی ہوئی تھی۔ جو چیزیں اور کاغذات وہاں رکھے گئے تھے وہ بھی یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ اسی طرح کے کچھ واقعات سولا پور کے گرلز ہاسٹل میں بھی پیش آئے ہیں ۔






کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں