مسکراتے ہوئے ویڈیو کے ساتھ خودکشی:
'اے پیاری ندی ، مجھے اپنے اندر سمالو ، میں بس بہتے رہنا چاہتی ہوں ...' اتنا کہہ کر عائشہ احمد آباد کی سابرمتی ندی میں کود گئی.
یہ معاملہ گجرات کے احمد آباد شہر کا ہے۔ جہاں ایک شادی شدہ خاتون نے سابرمتی ندی میں کود کر خودکشی کرلی۔ مرنے والی خاتون کا نام عائشہ ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایک بہت ہی جذباتی ویڈیو بنائی ۔ اس کے بعد اپنے والدین سے بات کی اور دریا میں ندی میں چھلانگ لگا دی ۔
عائشہ اپنا پرس اور موبائل ندی کنارے چھوڑ گئی۔ وہاں سے سارا معاملہ طشت از بام ہوا۔
‘ہیلو ، اسلام علیکم ، میرا نام عائشہ عارف خان ہے … اور میں جو بھی کرنے جا رہی ہوں ، اپنی مرضی سے کرنے جارہی ہوں ۔ اس میں کسی کا دباؤ یا زور زبردستی نہیں ہے۔ اب س ... کیا کہیں ... سمجھ لیجئے کہ خدا کی عطا کردہ زندگی اتنی ہی تھی اور مجھے اس اتنی سی زندگی میں بہت سکون ملا۔ اور ابو ، کب تک اپنوں سے لڑیں گے؟ کیس واپس لے لو, کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ... عائشہ لڑائیوں کے لئے نہیں بنی ہے۔ اور عارف سے پیار کرتی ہوں ، تھوڑی نہ پریشان کریں گے ۔ اگر وہ آزادی چاہتا ہے تو ٹھیک ہے وہ آزاد رہے۔ چلو اپنی زندگی تو یہی تک ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اب میں اللہ سے ملوں گی اور انہیں کہوں گی کہ میرے سے غلطی کہاں ہوئی ؟
والدین بہت اچھے ملے ، دوست بھی بہت اچھے ملے ۔ لیکن کہیں کوئی کمی رہ گئی ، مجھ میں یا شاید تقدیر میں۔ میں خوش ہوں ، میں آرام سے جانا چاہتی ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھائے۔
ایک چیز جو میں سیکھ رہی ہوں وہ یہ ہے کہ اگر پیار کرنا چاہتے ہیں تو دو طرفہ کریں ، کیونکہ ایک طرفہ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔ چلو کچھ محبت تو شادی کے بعد بھی نامکمل رہتی ہے۔ اے پیاری ندی ، دعا کرتی ہوں کہ ، مجھے اپنے اندر سما لو ۔ اور میری پیٹھ پیچھے جو بھی ہے ، براہ کرم زیادہ کھیڑا نہ کرنا ۔
میں ہواؤں کی طرح ہوں ، بس بہنا چاہتی ہوں اور بہتا رہتی ہوں۔ کسی کے لئے نہیں رکنا ۔ میں آج بہت خوش ہوں ... مجھے اپنے مطلوبہ سوالات کے جواب مل گئے۔ اور میں نے حس کو جو بتانا تھا وہ سچائی بتاچکی ہوں ۔ بہت ، شکریہ .دعاؤں میں یاد رکھنا۔ چاہے جنت ملے یا نہ ملے. الوداع ۔ 'اور یہی ویڈیو ختم ہوجاتا ہے ...
احمدآباد کے ساکن اور پیشے سے ٹیلر عائشہ کے والد لیاقت علی نے بتایا ، 'بیٹی کی شادی عارف خان کے ساتھ 2018 میں جالور (راجستھان) کے ساکن عارف خان سے کی تھی ، لیکن شادی کے بعد اسے جہیز کے لئے تشدد کا نشانہ بنای جانے لگا ۔
شادی کے کچھ مہینوں کے بعد ہی عارف عائشہ کو جہیز کا مطالبہ کرتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا۔ بعد میں ، وہ رشتہ داروں کے سمجھانے پر ساتھ تو لے گیا ، لیکن 2019 میں دوبارہ چھوڑ گیا۔ عارف اور اس کے اہل خانہ ڈیڑھ لاکھ روپے مانگ رہے تھے۔ کسی نہ کسی طرح رقم کا بندوبست کرکے
انہیں دے دیا گیا تھا ۔
لیاقت علی کا کہنا ہے کہ رقم دینے کے بعد عارف کے اہل خانہ کا لالچ بڑھتا ہی گیا۔ کچھ مہینے پہلے عارف عائشہ کو ایک بار پھر احمد آباد چلا گیا۔
عارف عائشہ سے فون پر تک بات نہیں کرتا تھا کچھ دن پہلے عائشہ نے غصے میں خودکشی کی دھمکی دی تھی۔ اس پر عارف نے جواب دیا تھا کہ اگر آپ مرنا ہیں تو مرجا , اور اس کا ویڈیو بنا کر بھیج دینا ۔ عائشہ کو اس سے تکلیف ہوئی اور بالآخر اس نے خودکشی کرلی۔
ویڈیو ملتے ہی لواحقین نے پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیم نے عائشہ کی نعش کو سابرمتی ندی سے باہر نکالا۔ عائشہ نے 25 فروری کو خودکشی کی تھی ۔ اسی دن لاش کو بھی باہر نکال لیا گیا تھا۔ لیکن ویڈیو سنیچر کے روز منظر عام پر آنے کے بعد کہرام مچ گیا ۔






کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں