src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 

 

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

پیر، 6 جولائی، 2026

 انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) :  38/ ملزمین کی پھانسی کی سزاؤں پر کل فیصلہ، گجرات ہائی کورٹ فیصلہ ظاہر کریگی



عدالت سے انصاف کی امید، ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ نے ملک کے نامور وکلاء کو پیش کیا : مولانا حلیم اللہ قاسمی










 احمد آباد  9/مئی : گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے 38/ ملزمین اور عمر قید کی سزا پانے والے 11/ ملزمین کی اپیلوں پر کل گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ فیصلہ ظاہر کریگی۔ گذشتہ ماہ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ فریقین کے دلائل کی سماعت عدالت نے تقریبا ً ایک سال تک کی تھی۔گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل کی سماعت کی تھی۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کی تھی، دو رکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کی۔کل 49/ ملزمین میں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے39/ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔
گجرات ہائی کورت کی جانب سے فیصلہ کی تاریخ ظاہر کیئے جانے کے بعد ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کی تھی تاکہ منظم و موثر طریقے سے ملزمین کے مقدمات کی پیروی کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگامتھو(سبکدوش جج مدراس ہائیکورٹ)، سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن، سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی، ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری، ایڈوکیٹ ہردے بوچ، ایڈوکیٹ سومناتھ نے بحث کی تھی جبکہ سینئر وکلاء کی معاونت ایڈوکیٹ خالد شیخ، ایڈوکیٹ پایوشی رائے، ایڈوکیٹ سدھارتھ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ استوتی رائے، ایڈوکیٹ بلال نظامی، ایڈوکیٹ ارجن و دیگر نے کی تھی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف کی امید ہے۔ملزمین اور ان کے اہل خانہ طویل عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں۔
۔گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔7015  صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔
   
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages