دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلم نوجوانوں کی ضمانت لکھنؤ ہائی کورٹ نے منظور کی
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی
لکھنؤ 30؍ مئی : اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے دہشت گردی کے سنگین الزام کے تحت گرفتار سہانپور کے اظہر الدین چراغ الدین نامی ملزم کی گذشتہ کل لکھنؤ ہائیکورٹ نے مشروط ضمانت منظور کی۔ ملزم کو یو پی اے ٹی ایس نے 29؍ دسمبر 2022ء کو القاعدہ نامی ممنوع تنظیم کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے الزام کے تحت گرفتار کیا تھا۔ملزم اظہر الدین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے قانونی امداد فراہم کی ہے۔ لکھنو ٔہائی کورٹ میںملزم کا دفاع ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ فرقان پٹھا ن نے کیا۔
لکھنؤ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس ظفیر احمدنے ایڈوکیٹ عارف علی کے دلائل کی سماعت کرتے ہو ئے ملزم اظہرالدین کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔دوران سماعت ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اظہر الدین کو کو ایک دوسر ے ملزم کے بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے جس کی ضمانت ہوچکی ہے نیز اس مقدمہ سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ملزم کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کا کبھی حصہ نہیں رہا ہے۔
ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو مزید بتایا کہ جس ملزم نے اس کے بیان میں عرض گذار اظہر الدین کا نام لیا ہے اس ملزم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ملزم کا بیان نہایت مشکوک ہے۔ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو مزید بتایا کہ اظہر الدین کے ساتھ مقدمہ کا سامنا کررہے دیگر ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت عرضداشتیں لکھنؤ ہائی کورٹ پہلے ہی منظور کرچکی ہے ۔لہذا ملزم کو بھی ضمانت پر رہا کیا جائے۔
اسی درمیان سرکاری وکیل نے ملزم اظہرالدین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت ہائی کورٹ سے مسترد کیئے جانے کی گذارش کی اور کہا کہ ملزم دہشت گردی جیسے سنگین معاملے میں ملوث ہے ، اس کے خلاف تفتیشی ایجنسی نے پختہ ثبوت و شواہد جمع کیئے ہیں نیز یو اے پی اے قانون کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں میںملوث ملزمین کو ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے لہذا ملزم کی ضمانت عرضداشت نا منظور کی جائے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے ملزم اظہر الدین کی ضمانت عرضداشت منظور کی۔
ملزم اظہر الدین کی جانب سے داخل ضمانت عرضداشت پر لکھنؤہائی کورٹ میں 58؍ مرتبہ سماعت کے لیئے پیش ہوئی جس کے بعد گذشتہ کل عدالت نے اس کی ضمانت عرضداشت منظور کی۔واضح رہے کہ ملزم اظہرالدین کے ساتھ مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین پر استغاثہ نے القاعدہ برصغیر نامی دہشت گرد تنظیم کے مبینہ رکن ہونے کے الزام عائد کیئے ہیں ۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی کوششوں سے 14؍ مئی 2024کو لکھنؤہائی کورٹ نے ملزمین1۔ لقمان احمد, 2۔ محمد حارث 3۔ آس محمد, 4۔ محمد علیم، 5۔ محمد نوازش انصاری، 6۔مدثر، 7۔ محمد مختار، 8۔قاری شہزاد 9۔ علی انور کی ضمانتیں منظور کی تھیں ۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں