src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 

 

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعرات، 16 اپریل، 2026

 

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات)
  38/ ملزمین کی پھانسی کی سزاؤں کے خلاف داخل اپیل پر گجرات ہائی کورٹ میں سماعت جاری
سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگامتھو کی بحث، جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی







 احمد آباد16/ اپریل : گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کی جانب سے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل پر حتمی بحث گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کررہے ہیں، دو رکنی بینچ ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کررہی ہے۔ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری کی بحث کے بعد سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگامتھو(سبکدوش جج مدراس ہائی) نے بحث کا آغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ اس مقدمہ کے وعدہ معاف گواہ کی گواہی غیر قانونی ہے لہذا وعدہ معاف گواہ کی گواہی کی بنیاد پر ملزمین کو دی جانے والی پھانسی اور عمر قید کی سزائیں غیر قانونی ہے۔سینئر ایڈوکیٹ ناگا متھو نے عدالت کو مزید بتایا کہ کسی بھی ملز م کو وعدہ معاف گواہ بننے کی اجازت صرف پرنسپل سیشن جج ہی دے سکتا ہے جبکہ اس معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج نے ایک ملزم کو دعدہ معاف گواہ بننے کی اجازت دی۔سینئر ایڈوکیٹ نے قانون کی باریکیوں اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی رہنمایانہ ہدایت کی روشنی میں ہائیکورٹ کو مزید بتایا کہ وعدہ معاف گواہ 2019/ میں بنا جبکہ ملزم کی گرفتاری 2008/ میں ہوئی تھی، اتنے دن تک ملزم کی خاموشی سوالیہ نشان پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایاکہ ملزم نے براہ راست عدالت سے رجوع ہونے کی بجا ئے سابرمتی جیل کے جیلر سے رابطہ قائم کیا اور وعدہ معاف گواہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملزم کی یہ خواہش نہایت مشکوک ہے، ملزم پولس کے دباؤ میں وعدہ معاف گواہ بنا ہے اس امکانات کو خارج نہیں کیا جاسکتاہے۔وعدہ معاف گواہ نے اپنی گواہی میں دیگر ملزمین کے تعلق سے جو بھی باتیں کہی ہیں اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے وعدہ معاف گواہی کی گواہی کو کمزور ثبوت کہا ہے لہذا  عدالت  کو وعدہ معاف گواہ کی گواہی کو خارج کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگا متھو کی گواہی آج نامکمل رہی۔ جمعرات اور جمعہ دو دن مزید سینئرایڈوکیٹ ہائی کورٹ میں بحث کریں گے۔عیاں رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے مشہور کریمنل وکیل یوگ موہت چودھری سیشن عدالت سے پھانسی اور عمر قید کی سزا پانے والے عمران ابراہیم شیخ،محمد عثمان محمد انیس اگربتی والا،محمد سجا منصوری،عباس عمر سمیجا، محمد اسماعیل محمد اسحق منصوری،قیام الدین شرف الدین کپاڑیہ،احمد ابوبکر باوا، عالم زیب مشکور احمد آفریدی، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ کے دفاع میں بحث کررہے تھے، ان کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگا متھو نے بحث کا آغاز کیا۔ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی خصوصی درخواست پر سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگا متھو اپنے معاونین کے ہمراہ احمد آباد میں خیمہ زن ہیں۔گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلے ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا۔7015/ صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔
 
   
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages