src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 

 

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 17 اپریل، 2026

 

ممبئی لشکر طیبہ معاملہ : مقرر ہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ملزم اللہ رکھا کی ضمانت بامبے ہائی کورٹ نے منظور کی


جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی، آٹھ سال سے جیل میں 
مقید ملزم کی رہائی کا راستہ صاف







ممبئی 17/ اپریل2026:  ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا مبینہ منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گزشتہ آٹھ سالوں سے جیل میں مقید اللہ رکھا ابو بکر منصوری نامی شخص کی آج بامبے ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے ملزم کو قانونی امداد فراہم کی۔ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمال کاتھا نے ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد ملزم کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے حالانکہ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے وکیل استغاثہ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت کی۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار گذشتہ تقریباً آٹھ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز اس مقدمہ کا سامنا کررہے دیگر ملزم فیصل مرزا کی دیڑھ سال قبل بامبے ہائی کورٹ نے منظور کی تھی جس پر استغاثہ نے اللہ رکھا سے زیادہ سنگین الزامات استغاثہ نے عائد کیئے تھے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود استغاثہ عدالت میں گواہان کو پیش نہیں کرسکا نیز جس رفتار سے مقدمہ کی سماعت چل ہی یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ مستقبل قریب میں ٹرائل مکمل ہوسکے گی نیز مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر سے ملزم کو آئین ہند میں دیئے گئے حقوق بالخصوص اسپیڈی ٹرائل کی خلاف ورزی ہورہی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف لگائے گئے سنگین الزامات کا ثابت ہونا باقی ہے نیزیکسانیت اور مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو منظور کیا جائے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس گڈکری کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے ضمانت عرض داشت منظور کیئے جانے کا زبانی حکم جاری کیا۔ تحریری فیصلے میں عدالت ضمانت کی شرائط کیا ہونگی وہ طے کریگی۔
آج دوران سماعت عدالت میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے ہمراہ ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ مسکان شیخ، ایڈوکیٹ حسن و دیگر موجود تھے۔
عیاں رہے کہ پانچ ماہ قبل ملزم اللہ رکھا کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ایم ایم سندریس اور جسٹس ستیش چندر شرما نے ٹرائل 31/ دسمبر 2025تک مکمل کیئے جانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نا ہونے کی صورت میں ملزم کو بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیئے رجوع ہونے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سے ٹرائل کورٹ میں محض تین ہی گواہان کو استغاثہ نے پیش کیا جس کی وجہ سے ٹرائل مکمل نہیں ہوسکی جس کی بناء پر ملزم کی ضمانت عرضداشت بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا سے دو دو مرتبہ ملزم کی ضمانت عرضداشتیں مستردہوچکی تھیں اس کے باوجود جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کرتے رہی اور آج اسے کامیابی مل ہی گئی۔
ملز واضح رہے کہ آٹھ سال قبل تحقیقاتی دستوں نے ملزمین فیصل مرزا ور اللہ رکھا کو داعش کے ہم خیال اور ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا، ملزمین کے مقدمہ کی سماعت ممبئی سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں چل رہی ہے، سرکاری گواہان کے بیانات کا اندراج کیا جارہاہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages