src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 13 مارچ، 2026

 

القاعدہ کٹک مقدمہ : ایس ٹی ایف کی مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت








جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی، سینئر وکیل کی تقرری 












نئی دہلی 13/ مارچ : ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو ایس ٹی ایف (اڑیسہ) نے مخالفت کی ہے۔ایس ٹی ایف نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں 42/ صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کرتے ہوئے چیف جسٹس آف ا نڈیا سے مولانا عبدالرحمن کی ضمانت عرضداشت کو مسترد کرنے کی گذارش کی ہے۔گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوملائی باگچی نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کے دلائل کی سماعت کے بعد مولانا عبدالرحمن کٹکی ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہو ئے استغاثہ کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں مولانا عبدالرحمن کٹکی ضمانت عرضداشت پر سماعت عمل میں آئی۔اڑیسہ ایس ٹی ایف کی جانب سے داخل حلف نامہ کا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیئے مولانا عبدالرحمن کٹکی کے وکلاء نے عدالت سے وقت طلب کیاجسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر 1/ اپریل کو سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔
اڑیسہ ایس ٹی ایف نے اپنے حلف نامہ میں تحریر کیا ہیکہ ملزم پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے جیسا نہایت سنگین الزام ہے نیز ملزم کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے تحت دہلی ہائی کورٹ نے ساڑھے سات سال کی سزا سنائی ہے۔ حلف نامہ میں مزید تحریر ہے کہ ملزم کو اگر ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ ملک سے فرارہوسکتا ہے کیونکہ اس کے تعلقات بیرون ملک میں موجود مشکوک لوگوں سے ہیں۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں الگ الگ مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے دہلی مقدمہ میں ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے مولانا عبدالرحمن کٹکی بری ہوچکے ہیں۔دہلی مقدمہ میں ملنے والی سزا کو مولانا عبدالرحمن کٹکی مکمل کرچکے ہیں جبکہ دہلی سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف داخل اپیل سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت ہے۔اڑیسہ مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر اور گواہان کے اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہونے کی وجہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے مولانا عبدالرحمن کٹکی نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔
اس سے قبل کی سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے چیف جسٹس آف انڈیا کو بتایا تھا کہ ملزم پر صرف اتنا الزام ہے کہ وہ  مبینہ طور پر نوجوانوں کو جہاد کرنے کے لیئے اکسا تھا اور پرجوش تقاریر سے ان کی ذہن سازی کرتا تھا لیکن ابتک عدالت میں استغاثہ یہ ثابت نہیں کرسکا کیونکہ گواہان اپنے سابقہ بیانات سے یکے بعد دیگرے منحرف ہورہے ہیں۔ مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر اور طویل قید پر بھی سینئر ایڈوکیٹ نے بحث کی تھی۔
عیاں رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی پرممنو ع تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش رچنے اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جاکر ٹریننگ حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مولانا عبدالرحمن کٹکی کے تینوں مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages