سنکٹ موچن مندر مقدمہ
نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے مفتی ولی اللہ کا دفاع ایڈوکیٹ ایم ایس خان کریں گے
مفتی ولی اللہ اور اس کے اہل خانہ کی درخواست پر وکیل کی تقرری کی گئی، مولانا حلیم اللہ قاسمی
ممبئی 15/ مارچ
اترد یش کے تاریخی و مذہبی شہر ورانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں 2006میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے مقدمہ کے اکلوتے مجرم مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی پیروی مشہور کریمنل ایڈوکیٹ ایم ایس خان کریں گے، مفتی اللہ کی درخواست اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے دی۔مولاناحلیم اللہ قاسمی نے مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہ مفتی ولی اللہ پر اترپردیش پولس نے تین مقدمات قائم کیئے تھے جس میں سے اسے دو مقدمات میں نچلی عدالت نے سزا سنائی جبکہ ایک مقدمہ سے اسے بری کردیا گیا تھا۔سیشن کورٹ نے ایک مقدمہ میں پھانسی اور دوسرے مقدمہ میں عمر قید کی سزا سنائی ہے، ددونوں مقدمات میں ملنے والی سزاؤں کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امدا د کمیٹی نے مفتی ولی اللہ کے دفاع میں سینئر ایڈوکیٹ راجو لوچن شکلا کی تقرری کی تھی لیکن اس درمیان سینئر ایڈوکیٹ کو کولجیم نے الہ آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیا۔راجو لوچن شکلا کے مقدمہ سے الگ ہوجانے کے بعد مفتی ولی اللہ اور اس کے اہل خانہ نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی سے درخواست کی کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان کی تقرری کی جائے جنہوں نے گذشتہ سال سی آر پی ایف رامپور مقدمہ میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار ملزمین کے دفاع میں الہ آباد ہائیکورٹ میں کامیاب بحث کرتے ہوئے انہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکنے سے بچا لیا تھا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ ایم خان سے گفتگو کرنے کے بعد ان کی باقاعدہ تقرر ی کردی گئی ہے، امید ہے کہ عید کے بعد بیس سالوں سے جیل میں مقید مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی الہ آباد ہائیکورٹ میں حتمی سماعت شروع ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ مفتی ولی اللہ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدا د کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے، ٹرائل کورٹ میں بھی ملزم کو قانونی امداد فراہم کی گئی تھی، ٹرائل کورٹ سے پھانسی کی سزا ملنے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر ہائی کورٹ سماعت کررہی ہے۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ راج رگھونشی نے نچلی عدالت کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔اس مقدمہ کا پس منظر یہ ہیکہ 7مارچ 2006 سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے8/ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا۔بم دھماکہ کرنے کے مبینہ الزامات کے تحت مفتی ولی وللہ کو 5/ اپریل 2006ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت دو مقدمات قائم کیئے گئے تھے۔ سال2011ء میں غازی آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے 48/ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا۔6/ جون 2022 کو خصوصی سیشن عدالت نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کے بعد نچلی عدالت کے فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر بہت جلد حتمی سماعت متوقع ہے۔
نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے مفتی ولی اللہ کا دفاع ایڈوکیٹ ایم ایس خان کریں گے
مفتی ولی اللہ اور اس کے اہل خانہ کی درخواست پر وکیل کی تقرری کی گئی، مولانا حلیم اللہ قاسمی
ممبئی 15/ مارچ
اترد یش کے تاریخی و مذہبی شہر ورانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں 2006میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے مقدمہ کے اکلوتے مجرم مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی پیروی مشہور کریمنل ایڈوکیٹ ایم ایس خان کریں گے، مفتی اللہ کی درخواست اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے دی۔مولاناحلیم اللہ قاسمی نے مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہ مفتی ولی اللہ پر اترپردیش پولس نے تین مقدمات قائم کیئے تھے جس میں سے اسے دو مقدمات میں نچلی عدالت نے سزا سنائی جبکہ ایک مقدمہ سے اسے بری کردیا گیا تھا۔سیشن کورٹ نے ایک مقدمہ میں پھانسی اور دوسرے مقدمہ میں عمر قید کی سزا سنائی ہے، ددونوں مقدمات میں ملنے والی سزاؤں کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امدا د کمیٹی نے مفتی ولی اللہ کے دفاع میں سینئر ایڈوکیٹ راجو لوچن شکلا کی تقرری کی تھی لیکن اس درمیان سینئر ایڈوکیٹ کو کولجیم نے الہ آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیا۔راجو لوچن شکلا کے مقدمہ سے الگ ہوجانے کے بعد مفتی ولی اللہ اور اس کے اہل خانہ نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی سے درخواست کی کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان کی تقرری کی جائے جنہوں نے گذشتہ سال سی آر پی ایف رامپور مقدمہ میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار ملزمین کے دفاع میں الہ آباد ہائیکورٹ میں کامیاب بحث کرتے ہوئے انہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکنے سے بچا لیا تھا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ ایم خان سے گفتگو کرنے کے بعد ان کی باقاعدہ تقرر ی کردی گئی ہے، امید ہے کہ عید کے بعد بیس سالوں سے جیل میں مقید مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی الہ آباد ہائیکورٹ میں حتمی سماعت شروع ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ مفتی ولی اللہ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدا د کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے، ٹرائل کورٹ میں بھی ملزم کو قانونی امداد فراہم کی گئی تھی، ٹرائل کورٹ سے پھانسی کی سزا ملنے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر ہائی کورٹ سماعت کررہی ہے۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ راج رگھونشی نے نچلی عدالت کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔اس مقدمہ کا پس منظر یہ ہیکہ 7مارچ 2006 سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے8/ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا۔بم دھماکہ کرنے کے مبینہ الزامات کے تحت مفتی ولی وللہ کو 5/ اپریل 2006ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت دو مقدمات قائم کیئے گئے تھے۔ سال2011ء میں غازی آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے 48/ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا۔6/ جون 2022 کو خصوصی سیشن عدالت نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کے بعد نچلی عدالت کے فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر بہت جلد حتمی سماعت متوقع ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں