پونے جنگلی مہاراج روڈ بم دھماکہ مقدمہ پچاس گواہان کی گواہی مکمل،
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی دو ملزمین کی قانونی امداد
ممبئی 12/ مارچ : پونے جنگلی مہاراج روڈ سلسلہ وار بم دھماکہ مقدمہ کی سماعت ممبئی سٹی سول اینڈ سیشن عدالت میں قائم خصوصی سیشن عدالت میں تیزی سے جاری ہے، بامبے ہائیکورٹ کی ہدایت پر عدالت اس مقدمہ کی سماعت ہفتہ میں دو سے تین دن کرر ہی ہے۔اس مقدمہ میں مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ اے ٹی ایس نے 9/ ملزمین کے خلاف دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیئے ہیں۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین منیب اقبال میمن اور فاروق شوکت باغبا ن کے دفاع میں سینئر وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ کو مقرر کیا ہے۔ ابتک اس مقدمیں پچاس سرکاری گواہان نے عدالت میں ملزمین کے خلاف بیان درج کرایا ہے۔خصوصی سیشن جج سائینہ پاٹل اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے جبکہ خصوصی سرکاری وکیل وبھئے بگاڑے اے ٹی ایس کی جانب سے عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔1/اگست 2012/ کو پونے کے مختلف مقاما ت پر لو انٹینسٹی کے بم دھماکے ہو ئے تھے جس میں ایک شخص زخمی ہوا تھا۔ان بم دھماکوں میں مبینہ طور پر انڈین مجاہدین نامی تنظیم کو ذمہ دار ٹہرایا گیا تھا۔ ملزمین کی گرفتار ی کے بعد ریاستی حکومت نے ملزمین کے خلاف سخت مکوکا قانون کے اطلاق کیا تھا۔ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ نے مہاراشٹر اور بیرون مہاراشٹر سے اسعد خان جمشید خان، عمران خان پٹھان، فیروز سید، عرفان مصطفی لانگڑے، منیب اقبال میمن، فاروق شیخ باغبان، سید عارف بیابانی، اسلم شیخ اور اسعد اللہ اختر کو گرفتار کیا تھا۔جنوری2023/ میں عدالت نے تمام ملزمین کے خلاف فرد جرم (چارج فریم) عائد کرنے کے بعد باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا، اس درمیان استغاثہ کی جانب سے عدالت میں گواہان کوپیش نہیں کیئے جانے کی وجہ سے بامبے ہائی کورٹ نے یکے بعد دیگرے منیب میمن اور فاروق باغبان کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھااور استغاثہ کو حکم دیا وہ جلد از جلد سرکاری گواہان کو عدالت میں پیش کرے۔بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت پر استغاثہ سرکاری گواہان کو عدالت میں پیش کررہی ہے، ہائی کورٹ میں استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے 135/ سرکاری گواہان کو پیش کیئے جانے کا اشارہ دیا تھا۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں