src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> کیرالا سیمی مقدمہ :18 / سالوں سے جیل میں مقید ملزمین کی اپیلوں پر سپریم کورٹ سماعت کرنے کے لئے تیار - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعرات، 19 فروری، 2026

کیرالا سیمی مقدمہ :18 / سالوں سے جیل میں مقید ملزمین کی اپیلوں پر سپریم کورٹ سماعت کرنے کے لئے تیار

 


کیرالا سیمی مقدمہ :18 / سالوں سے جیل میں مقید ملزمین کی اپیلوں پر سپریم کورٹ سماعت کرنے کے لئے تیار



جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی امداد فراہم کی۔ 








نئی دہلی 19/ فروری : سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے آج یہاں تقریباً 18/ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزائیں کاٹنے والے ملزمین کی اپیلوں پر سماعت کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس سندریش اور جسٹس این کے سنگھ نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔ کیرالا ہائی کورٹ کی جانب سے ملنے والی عمر قید کی سزاؤں کو ملزمین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے۔دو سال قبل سپریم کورٹ آف انڈیا نے پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرلیا تھا۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی داخل کی ہے۔ آج دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے ضمانت عرضداشت پر سماعت کیئے جانے کی عدالت سے گذارش کی جس پر عدالت نے کہا کہ ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے کی بجائے ملزمین کی اپیلوں پر سماعت کرنیکے لیئے بینچ تیار ہے۔استغاثہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے کہا کہ سیشن عدالت اور ہائی کورٹ سے ملزمین کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزائیں ہوئی ہیں نیز نچلی عدالت کا ریکارڈ تیار ہے لہذا ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو مسترد کردینا چاہئے۔اسی درمیان سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جارج تھامس نے عدالت سے گذارش کی کہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو خارج کرنے کی بجائے ملزمین کی اپیلوں پر سماعت کرلی کیونکہ ملزمین ایک طویل عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے مقدمہ کی سماعت چار ہفتوں کے بعد کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔

 ملزمین ناصر حاجی استاد، شفاس شمس الدین، عبدالجبار، سرفراز نواز، عبدل بشیر، پی مجیب، ابراہیم مولوی اور سین الدین ستار بھائی نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی مدد سے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔

واضح رہے کہ کیرالا سیمی مقدمہ میں کیرالا ہائی کورٹ نے  9/ مئی 2022 کو بیس ملز مین کو عمرقید کی سزا سنائی تھی، بیس ملزمین میں سے آٹھ ملزمین ملزمین ناصر حاجی استاد، شفاس شمس الدین، عبدالجبار،سرفراز نواز، عبدل بشیر، پی مجیب، ابراہیم مولوی اور سین الدین ستار بھائی نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

ملزمین سال2008 سے سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ ریاست میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے اور ان کا ممنوع تنظیم سیمی سے تعلق تھا۔قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے ملزمین پر جہادی ذہنیت اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages