src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> کولکاتہ برمن اغواء معاملہ: ملزم کی سزا معافی کی عرضداشت پر چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی سپریم کورٹ کی سخت ہدایت - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

بدھ، 18 فروری، 2026

کولکاتہ برمن اغواء معاملہ: ملزم کی سزا معافی کی عرضداشت پر چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی سپریم کورٹ کی سخت ہدایت

 

کولکاتہ برمن اغواء معاملہ: ملزم کی سزا معافی کی عرضداشت پر چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی سپریم کورٹ کی سخت ہدایت 




جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی










نئی دہلی18/ فروری  2026  :خادم اغواہ مقدمہ میں کولکاتہ ہائی کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا پانے والے مزمل شیخ نامی شخص کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغربی بنگال حکومت اور جیل انتظامیہ کو سختی سے حکم دیا کہ وہ عرض گذار کی سزا معافی کی درخواست پر چھ ہفتوں کے اندر فیصلہ صادر کرے، دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کماراور جسٹس پرسنا بی ورالے نے عرض گذارمزمل شیخ کی جانب سے داخل ضمانت عرضداشت پر سماعت کررہے تھے۔ مزمل شیخ کو قانونی امداد جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے فراہم کی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے دو رکنی بینچ کوبتایا کہ مزمل شیخ گذشتہ 16/ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور اس کی اپیل کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لیئے منظور کیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ مزمل شیخ کی اپیل پر سپریم کورٹ کب حتمی سماعت کریگی اس تعلق سے کوئی اپڈیٹ دستیاب نہیں ہے لہذا مزمل شیخ کو مشروط ضمانت پر رہا کیا جائے۔دوران سماعت دو رکنی بینچ نے سرکاری وکیل سے دریافت کیا کہ ابتک حکومت نے مزمل شیخ کی سزا معافی کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کیوں نہیں کیا جبکہ ملزم جیل میں 14/ سال سے زائدکا عرصہ گذار چکا ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئند ہ چند ماہ میں مزمل شیخ کی سزا معافی کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کیا جائے گا، سرکاری وکیل کی اس دلیل پر دو رکنی بینچ نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں کئی مواقعوں پرہدایت جاری کی ہے کہ 14/ سالوں سے زائد کا عرصہ گذار چکے قیدیوں کی سزا معافی کی عرضی پر جلد از جلد فیصلہ صادر کیا جائے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے مغربی بنگال اور محکمہ جیل کو حکم دیا کہ وہ مزمل شیخ کی سزا معافی کی عرضداشت پر چھ ہفتوں کے اندر فیصلہ صادر کرے، عدالت نے اس مقدمہ کی اگلی سماعت چھ ہفتوں کے بعدکیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عرض گذار مزمل شیخ کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کرر ہی ہے۔ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چان قریشی نے ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ عارف علی کے تعاون سے کولکاتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ ملزم مزمل شیخ پر الزام ہے کہ اس نے 23/جولائی 2001ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں ملوث ملزمین کی مدد کی تھی۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میں پولس نے پہلے 22/ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں سے 17/ ملزمین باعزت بری ہوئے تھے اور بقیہ پانچ ملزمین کو  21/ مئی 2009ء عمر قید کی سزا ہوئی تھی لیکن مقدمہ ختم ہوجانے کے بعد پولس نے سال 2011/ میں آٹھ دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیزات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جن کے خلاف 65/ سرکاری گواہوں نے گواہی دی جس کے بعد علی پور جیل میں قائم خصوصی عدالت نے انہیں بھی عمر قید کی سزا سنا دی تھی جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ ٹرائل کور ٹ نے 8/ دسمبر 2017/ کو دوسرے مرحلے کی ٹرائل میں آٹھ ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ملزمین نے کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جس پر تقریباً چھ سال تک سماعت چلی جس کے بعد گذشتہ سال ہائی کورٹ نے فیصلہ صادر کیا تھا اور ملزمین کی عمر قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages