انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات)
38/ ملزمین کیپھانسی کی تصدیق کے لیئے ہائیکورٹ میں حتمی بحث جاری
سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی بحث، جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
احمد آباد20/ فروری2026
گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کی جانب سے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل پر حتمی بحث گذشتہ چارماہ سے جاری ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کررہے ہیں، دو رکنی بینچ ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کررہی ہے۔سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی 10/ ملزمین کے دفاع میں گذشتہ ایک ہفتہ سے بحث کر رہے ہیں،ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی بحث مزید کئی دنوں تک چلے گی،ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی معاونت ایڈوکیٹ خالد شیخ اور ایڈوکیٹ سنسکرتی کررہی ہیں، ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی خصوصی درخواست پر سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی اپنے معاونین کے ہمراہ احمد آباد میں خیمہ زن ہیں۔گذشتہ کل اس ضمن میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے احمد آباد کا دورہ کیا اور دوران بحث احمد آباد ہائی کورٹ میں موجود رہے، اس تعلق سے مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ پھانسی کی سزاؤں سے ملزمین کو بچانے کے لیئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملک کے مشہور سینئر کریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں جن کا تعلق دہلی، ممبئی اور دیگر شہروں سے ہے، انہوں نے ابتک کی سماعت پر اطمنان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہائی کورٹ سے ملزمین کو راحت ملے گی۔ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی بحث کے اختتام کے بعد ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری 9/ ملزمین کے دفاع میں بحث کریں گے۔گجرات ہائی کورٹ 38/ ملزمین کی پھانسی اور 11/ ملزمین کو ملنے والی عمر قید کی سزاؤں پر یکجا سماعت کررہی ہے۔ابتک اس معاملے میں سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن، تجس باروت، ہردئے بوچ بحث مکمل کرچکے ہیں جبکہ ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی بحث جاری ہے۔ ایڈوکیٹ دیسائی کی بحث کے بعد سینئر وکلایوگ موہت چودھری اور اسیم پانڈیا بحث کریں گے۔اس مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے نچلی عدالت میں بھی قانونی امداد فراہم کی تھی اور ہائی کورٹ میں بھی بیشتر ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کو ہائی کورٹ میں بھی قانونی امداد فراہم کی ہے۔
نچلی عدالت نے زاہد قطب الدین شیخ،عمران ابراہیم شیخ، اقبال قاسم شیخ،شمش الدین شہا ب الدین شخ، غیاث الدین عبدالسلیم انصاری، عارف بھائی اقبال کاغذی، محمد عثمان اگر بتی والا، یونس محمد منصوری، عامل پرواز، شبلی عبدالکریم، صفدر حسین ناگوری، محمد ساجد منصوری، مفتی ابوالبشر، عباس عمر سمیجا، جاوید صغیر احمد، محمد اسماعیل عبدالرازق، افضل عثمانی، محمد عارف بدرالدین، آصف بشیر الدین، محمد عارف نسیم احمد، قیام الدین کاپڑیا، محمد سیف، ذیشان احمد، ضیاء الرحمن، محمد شکیل، محمد اکبر، فضل الرحمن، احمد ابو بکر باوا، شرف الدین ای ٹی سین الدین، سیف الرحمن، شادولی اے کریم،تنویر محمد اکبر، امین ایوب، مبین شکور، عالم زیب آفریدی اور توصیف خان صغیر احمد کو پھانی کی سزا دی تھی جبکہ ملزمین عتیق الرحمن، مہدی حسن،عمران احمد،محمد صادق، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ،عنیق شفیق سید، محمد نوشاد، محمد انصار،محمد شفیق، محمد ابرار اورمحمد علی محرم علی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلے ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا۔7015/ صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں