پٹنہ گاندھی میدان بم دھماکہ معاملہ : ملزمین کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کی استغاثہ کی اپیل مسترد،
سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
نئی دہلی7، جنوری2026 : بہار کی راجدھانی پٹنہ کے مشہور گاندھی میدان میں رونما ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں پٹنہ ہائی کورٹ کے ملزمین کو عمر قید اور تیس سال سزا دیئے جانے والے فیصلے کے خلاف ملزمین اور استغاثہ کی جانب سے داخل اپیلوں کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے خارج کردیا۔ ایک جانب جہاں ملزمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا وہیں دوسری جانب ریاستی سرکار نے ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے سیشن عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی عدالت سے گذارش کی تھی۔
سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی تمام اپیلوں کو خارج کردیا۔ دو رکنی ینچ نے نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا راجا ٹھاکرے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کو سیشن عدالت نے دہشت گردی جیسے سنگین معاملے میں پھانسی کی سزا دی تھی جسے پٹنہ ہائی کورٹ نے تیس سالوں میں تبدیل کردیا تھا۔ راجا ٹھاکرے نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمین نے پٹنہ اور بدھ گیا دونوں جگہ بم دھماکے انجام دیئے تھے لہذا ملزمین کو پھانسی کی سزا ملنا چاہئے۔ دوسری جانب جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزمین کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ انشومن نے عدالت کو بتایا کہ سیشن کورٹ اور پٹنہ ہائی کورٹ نے ملزمین کو نہایت کمزور ثبوت کی بنیاد پر سزائیں سنائی ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ محض اقبالیہ بیان کی بنیاد پر ملزمین کو سزائیں سنائی گئی تھی، ملزمین کے پاس سے اسلامی لیٹریچر اور چند مبینہ متنازعہ دستاویزات کے علاوہ کوئی بھی چیز ضبط نہیں کی گئی تھی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس ایم ایم سندریس نے کہا کہ وہ ملزمین اور استغاثہ کی جانب سے داخل اپیلوں پر نوٹس جاری نہیں کرتے ہوئے اسے خارج کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس معاملے میں پانچ مرتبہ سماعت کی اور آج بالآخر تمام اپیلوں کو مسترد کردیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال 11/ ستمبر کو پٹنہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار ملزمین کو پھانسی دیئے جانے والے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے ملزمین کو تیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے ملزمین حیدر علی عالم انصاری، مجیب اللہ جابر انصاری، نعمان سلطان انصاری اور امتیاز انصاری کمال الدین کی پھانسی کی سزاؤں کو تیس سال میں تبدیل کردیا تھا۔ جس کے خلاف ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی، جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ ملزمین کی جانب سے داخل پٹیشن کو ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ واصف رحمن خان نے سینئر ایڈوکیٹ کے مشورہ سے پٹیشن تیار کی تھی جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا۔ عیاں رہے کہ 23/ اکتوبر2013ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے، اس بم دھماکہ میں 6/لوگ ہلاک اور 90/ افراد زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی NIA کے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے 10/ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307 ,326 ,212, 121(A), 120(B), 34، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں