مالیگاؤں میں کانگریس کے اعجاز بیگ پر جان سے مارنے اور کھلی دھمکیاں دینے کا الزام ،وارڈ 18 میں سنسنی، پولیس و الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ، شہر اے ایس پی تگبیر سنگھ سندھو سے ملاقات
مالیگاؤں : (خیال اثر) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتخابات کے تحت وارڈ نمبر 18 میں کانگریس کے مقامی صدر و امیدوار اعجاز بیگ کی جانب سے کھلے عام دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات نے شہر کی سیاسی فضا کو گرمادیا ہے۔ دو دن قبل یعنی 10 جنوری کی رات راجہ نگر، گیندا میدان میں منعقدہ جلسہ عام میں اعجاز بیگ نے مخالف امیدواروں کو نہ صرف جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں بلکہ ووٹروں کو بھی سنگین نتائج کی وعید سنائی، جسے جمہوری اقدار اور انتخابی ضابطۂ اخلاق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعجاز بیگ نے جلسہ عام میں مخالف امیدوار عبداللہ مبارک اور عبدالحلیم صدیقی کا نام لے کر کہا کہ “جمعرات کو شام ساڑھے پانچ بجے ایسا ماریں گے کہ لیڈر اسپتال پہنچ کر عیادت کریں گے”، جبکہ راجہ نگر کے ووٹروں کو بھی دھمکاتے ہوئے کہا کہ “میرے خلاف گئے تو معاف نہیں کیا جائے گا”۔ مبینہ طور پر تقریر کے دوران ماں بہنوں سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا گیا، اس طرح الزام اعجاز بیگ پر عائد کیا گیا ہے جس پر سماجی و سیاسی حلقوں میں شدید برہمی پائی جارہی ہے۔ ان بیانات کے خلاف سماجوادی پارٹی کے نوجوان لیڈر مستقیم ڈگنٹی کی قیادت میں ایک وفد نے پولیس کنٹرول روم پہنچ کر شہر کے اے ایس پی تگبیر سنگھ سندھو سے ملاقات کی اور تحریری شکایت پیش کی۔ وفد میں وارڈ نمبر 18 کے امیدوار حافظ انیس اظہر، خاتون امیدوار کے شوہر عبداللہ مبارک اور عبدالحلیم صدیقی بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنٹی نے کہا کہ “الیکشن تعمیر، ترقی اور کارکردگی کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے، مگر وارڈ 18 میں کانگریسی امیدوار اپنی شکست کو قریب دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں، اسی لیے دھمکیوں اور غلط بیانی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ وارڈ کی عوام کے خلاف بھی توہین آمیز باتیں کی گئیں، جس پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔”
سماجوادی پارٹی اور اسلام پارٹی کے مشترکہ امیدوار، معروف صحافی عبدالحلیم صدیقی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “جمہوریت میں امیدوار بننا اور ووٹ مانگنا ہر شہری کا حق ہے۔ گزشتہ 25 برس سے اعجاز بیگ وارڈ پر مسلط ہیں، ہم پرامن طریقے سے گھر گھر جا کر تبدیلی کی اپیل کر رہے ہیں۔ نہ ذاتی حملے کیے گئے اور نہ ہی بدزبانی، مگر اپنی یقینی ہار دیکھ کر اعجاز بیگ ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔”
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اعجاز بیگ ماضی میں بھی معروف ایم پی ڈاکٹر شوبھا تائی بچھاؤ کو گالیاں دے چکے ہیں اور اب وارڈ نمبر 18 میں گالی گلوچ اور غنڈہ گردی کا ماحول پیدا کر رہے ہیں، جبکہ سیکولر فرنٹ کے امیدوار خاموشی سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ عبدالحلیم صدیقی نے اعلان کیا کہ ان دھمکیوں اور نازیبا زبان کے خلاف الیکشن کمیشن آف انڈیا، پولیس محکمہ اور انتخاب کے بعد کانگریس ہائی کمان کو ویڈیو اور آڈیو ثبوتوں کے ساتھ باضابطہ شکایت درج کرائی جائے گی۔ شہری حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انتخابی عمل کو خوف و ہراس کے ذریعے متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی یا جمہوریت ایک بار پھر طاقت اور دھمکیوں کے سامنے بے بس نظر آئے گی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں