روایتی سیاہی کے بجائے مارکر پین کے استعمال پر سیاسی ہنگامہ , اپوزیشن نے ووٹ چوری کے خدشات ظاہر کیے
ممبئی : مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے دوران ووٹنگ کے لیے روایتی سیاہی کے بجائے مارکر پین کے استعمال پر شدید سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ مارکر پین کی سیاہی مٹائی جا سکتی ہے جس سے فرضی ووٹنگ اور ووٹ چوری کو فروغ مل سکتا ہے جبکہ حکمراں بی جے پی نے ان الزامات کو عوام میں کنفیوژن پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ویڈیو فرضی یا گمراہ کن پائی گئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے کہا کہ مارکر پین کی سیاہی مٹنے سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی جانچ کی جائے گی۔
دنیش واگھمارے نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن گزشتہ دس برسوں سے یہی سیاہی استعمال کر رہا ہے اور عام حالات میں اس کے مٹنے کا امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق سال 2010 سے ووٹروں کی نشاندہی کے لیے مارکر پین ہی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے بھی ریاستی الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔
این سی پی (شرد پوار گروپ) کے قومی ترجمان کلائیڈ کراستو نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک بار پھر ناکام ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق ووٹروں کے نام فہرستوں میں نہ ملنا اور بی ایم سی انتخابات میں مارکر پین کا استعمال کمیشن کی مشکوک کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ووٹروں کی انگلی پر لگائی جانے والی سیاہی میں کسی بھی تبدیلی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اپنی انگلی پر لگی سیاہی کو رگڑ کر دکھاتے ہوئے کہا کہ عام حالات میں یہ سیاہی مٹ نہیں سکتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر واقعی ایسا کوئی معاملہ ہے تو الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ مکمل طور پر کمیشن کا دائرۂ اختیار ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں