src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 16 جنوری، 2026

 


اندرونی خلفشار سے سماجوادی پارٹی کا قلعہ منہدم ، مانخورد۔شیواجی نگر میں اے آئی ایم آئی ایم کا شاندار عروج




ممبئی : ممبئی کے مضا فات کا علاقہ مانخورد۔شیواجی نگر تعلقہ، جو گزشتہ تقریباً بیس برسوں سے سماجوادی پارٹی (سپا) کا مضبوط قلعہ مانا جاتا تھا، اس مرتبہ کے بلدیاتی انتخابات میں بڑی سیاسی تبدیلی کا گواہ بنا۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات، قیادت کے درمیان تال میل کی کمی اور مقامی عوام کی ناراضگی کے سبب سماجوادی پارٹی کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا، جس کا سیدھا فائدہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کو ہوا۔

اے آئی ایم آئی ایم نے یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں۔انتخابی نتائج کے مطابق مانخورد۔شیواجی نگر تعلقہ کی 6 نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم نے فتح حاصل کی ہے، جبکہ کانگریس کے بااثر قائدین اور سینئر لیڈر نظام الدین رائین و نوجوان لیڈر مفتی صفیان ونو کو بھی اس الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ عوام نے اس بار روایتی سیاست سے ہٹ کر تبدیلی کو ترجیح دی ہے۔وارڈ وار نتائج کی بات کی جائے تو وارڈ نمبر 134 سے محسن عتیق احمد، 136 سے ضمیر قریشی، 137 سے سمیر پٹیل، 138 سے روشن عرفان خان اور 139 سے شبانہ عاطف شیخ نے کامیابی حاصل کر کے اے آئی ایم آئی ایم کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا۔ جبکہ وارڈ 135 سے نوناتھ بن (بی جے پی)، 140 سے وجے اوباڑے اور 141 سے وٹھل لوکرے (شیوسینا اُدھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے فتح درج کی۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے اور سابق بلدیاتی نمائندوں کے کام کاج سے علاقے میں طویل عرصے سے ناراضگی پائی جا رہی تھی۔ بنیادی سہولتوں جیسے صفائی، پانی کی فراہمی، سڑکوں کی خستہ حالی، نکاسی آب اور بازآبادکاری جیسے اہم مسائل پر خاطر خواہ کام نہ ہونے کے باعث عوامی غصہ بڑھتا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے اندر ٹکٹ تقسیم کو لے کر اختلافات اور باہمی رسہ کشی نے سماجوادی پارٹی کی جڑیں کمزور کر دیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم نے اس عوامی ناراضگی کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا۔ پارٹی نے مقامی مسائل کو مرکز بنا کر جارحانہ عوامی رابطہ مہم چلائی اور خود کو مظلوم اور نظرانداز شدہ طبقے کی آواز کے طور پر پیش کیا، جس کا مثبت اثر ووٹروں پر صاف نظر آیا۔مجموعی طور پر مانخورد۔شیواجی نگر کے یہ نتائج نہ صرف سماجوادی پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا ہیں بلکہ ممبئی کی سیاست میں بدلتے ہوئے رجحانات اور نئے سیاسی توازن کی بھی واضح علامت ہیں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages