ڈومبیولی میں ایم این ایس کو بڑا سیاسی جھٹکا ، منوج گھرت کی بی جے پی میں شمولیت
تھانے : مہاراشٹر نونرمان سینا کو ڈومبیولی میں اس وقت بڑا سیاسی دھچکا لگا جب پارٹی کے شہر صدر منوج گھرت نے بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے منسے سربراہ راج ٹھاکرے کے قریبی اور وفادار سمجھے جانے والے گھرت کے اس فیصلے سے ڈومبیولی کی مقامی سیاست میں نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
منوج گھرت ڈومبیولی میں ایم این ایس کا سب سے نمایاں چہرہ مانے جاتے تھے، تاہم گزشتہ چند مہینوں سے انہیں مقامی سطح پر مسلسل مسائل کا سامنا تھا۔ ذرائع کے مطابق مہاوکاس اگھاڑی اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے کارکنوں کے ساتھ اختلافات، پینل تشکیل، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم کے دوران تال میل کی کمی نے ان کی ناراضگی کو مزید بڑھا دیا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر منوج گھرت نے منسے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی صدر رویندر چوہان کی موجودگی میں باضابطہ طور پر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گھرت نے الزام لگایا کہ یو بی ٹی کے کارکنان اپنی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جس کے باعث منسے اور یو بی ٹی کے امیدوار ایک ہی پینل سے میدان میں اتر آئے، جس سے شدید کنفیوژن پیدا ہوئی۔
گھرت نے کہا کہ اس طرح کی بدنظمی میں عوام کے سامنے ٹھاکرے برانڈ کو مؤثر انداز میں پیش کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ بی جے پی میں شمولیت کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک مضبوط قومی جماعت ہے اور مرکز و ریاست میں مہایوتی حکومت ہونے کی وجہ سے شہر کے لیے ترقیاتی فنڈز حاصل کرنا اسی اتحاد کے ذریعے ممکن ہے۔ دیگر جماعتوں کا اس ضمن میں اثر و رسوخ محدود ہے۔
سیاسی عزائم سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے گھرت نے واضح کیا کہ انہوں نے ٹکٹ کی خواہش میں بی جے پی جوائن نہیں کی۔ ان کے مطابق منسے کے ساتھ ان کا 20 سالہ سفر رہا ہے اور یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر کارکنوں کے جذبات اور آئندہ ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں