مایہ ناز عالم حضرت مولانا عبدالاحد صاحب چتوڑی کا انتقال
قاری عبدالوہاب و دیگر اہلِ خانہ سمیت پورا علاقہ سوگوار
موت برحق ہے اے سرمستِ خُمارِ زندگی
توڑدیتی ہےاَجَل حِصن و حِصارِ زندگی
دفعتاً رخصت ہوئے ہیں حضرت عبدالاحد
یک بیک یوں تَھم گیا سب کاروبارِ زندگی
یاالٰہی!بخش دے بندہ بڑا خوددار تھا
موت دی تونے ہی اے پروردگارِ زندگی
اہلِ خانہ کو عطا کردے خدا! صبر و سکون
ہو ترا فضل و کرم فصلِ بہارِ زندگی
چند روزہ زندگی پریوں نہ اِتراؤ حفیظ!
جھاڑ دے گی مرگ سب گَرد و غبارِ زندگی
28 اگست 2025 بروزجمعرات صبح حافظ فیضان احمد (استاذ مدرسہ کاشف العلوم بھگوتی پور) کے واٹس ایپ پر یہ خبر نظر سے گزری کہ حضرت مولانا عبدالاحد صاحب چتوڑی مانپور کا انتقال ہوگیا اناللہ واناالیہ راجعون،ان للہ مااخذولہ مااعطٰی وکل شئی عندہ باجل مسمیٰ
مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیےحضرت مولانا عبدالواحد صاحب قاسمی سے رابطہ کی کوشش کی مگر نہیں ہوسکا پھرحافظ فیضان احمد صاحب سے معلوم کرنے سے پتہ چلا کہ چند روز قبل مرحوم کو فالج کا عارضہ لاحق ہوا تھا بہرکیف یہ سب تو اجلِ مسمٰی تک پہونچنے کے بہانے ہیں ان اجل اللہ اذاجاءلایؤخر کا محکم فیصلہ اسی طرح اسباب کے پردے سےظہور پذیر ہوتا ہےاس سانحۂ ارتحال سےاس قدر دلی صدمہ ہوا کہ بیان نہیں کرسکتاحضرت مرحوم کےبھائی اور اپنےرفیقِ درس قاری عبدالوہاب صاحب (استاذ شعبۂ حفظ مدرسہ مصباح العلوم روضہ) سے فون ہی تعزیتی گفتگو کی اسی دوران حضرت مولانا مفتی منصور احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ(مہتمم مدرسہ مصباح العلوم روضہ سےبھی گفتگو ہوئی، سب نے رندھی ہوئی آواز میں اظہارِ تاسف کیا
چونکہ حضرت مولانا مرحوم دور نزدیک کی قرابت بھی ہے اور بچپن سےہم نےان کی علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی تگ ودو کو بہت قریب سے دیکھا بھی ہے
حضرت مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری علیہ الرحمہ(بانی مدرسہ مصباح العلوم روضہ)* کے تلامذہ میں مولانامرحوم کانام ممتازاورمنفردمقام کاحامل ہے اسی لئےدونوں کوہمیشہ ایک دوسرےکاقدردان پایاگوکہ مولاناعبدالاحددرس وتدریس کی دنیاسےدورتھےمگر *علاقہ بھرکےعلماءوادباء* ان کی علمی گہرائی و گیرائی کےقائل تھےلوگ ان کی لیاقت وصلاحیت کےمداح ہی نہیں موقعہ بہ موقعہ استفادہ بھی کیاکرتے تھےافسوس کہ اب وہ مرجعِ خلائق شخصیت اس دنیا سے رخصت ہوگئی
مرحوم جہاں ایک طرف *اردوادب کےمایۂ نازقلمکارتھےتووہیں دوسری طرف ایک یگانۂ روزگارولولہ انگیز صاحبِ گفتار* بھی تھےباذوق شاعری بھی آپ کاشوق تھا آپ کی سیاسی سوجھ بوجھ سےبڑےبڑےسیاسی رہنما آپ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے
آپ درازقد،سانولی رنگت کے نہایت وجیہ اورخوددارجاذبِ قلب ونظر قامت کے مالک تھے انتہائی سادہ صوم وصلٰوۃ کی پابند زندگی گزار کراس دنیاسےرخصت ہوگئے
مرحوم حضرت *مولاناشبیراحمدصاحب قاسمی سابق خطیب جامع مسجد مہولی جوہمارے خسرواستاذمحترم حضرت مولانازبیراحمدقاسم مدظلہ العالی بھگوتی پور (نزیل ناون خرد کےعم زاد تھے مرحوم مولانا عبدالاحد صاحب ان کے حقیقی بہنوئی تھےاسی لحاظ سےناچیز کو ہمیشہ اپناقریبی گردانتے اور خوب خوب حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے
الغرض ان کا سانحۂ ارتحال جہاں بہتیروں کے لئے باعثِ ملال ہے وہیں خود میرے لئے یہ جانکاہ خبر بہت ہی اندوہناک ہے، آئیے ہم سب مل کر مرحوم کے حق میں مغفرت وب لندی درجات کی دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مرحوم کی زلات و لغزشات کو درگزر فرما کر ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر نور سے منور فرمائے اوراعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے، آمین نیز اللہ تعالٰی تمام اولاد و احفاد، اہل خانہ بالخصوص ان کی اہلیہ محترمہ، عبدالصمد ماموں، قاری عبدالوہاب و مولانا عبدالتواب مولانا مسیح الدین صاحب معروف و مشہور گلوکار بھائی اسعد مہتاب دیگر اعزہ، اقرباء اور تمام پسماندگان کو صبر و سکون نصیب فرمائے،
آسماں ان کی لحدپر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
ایں دعاازمن وازجملہ جہاں آمین باد
حررہ العبدحفیظ اللہ حفیظ قاسمی بستوی ناظم تعلیمات جامعہ سراج العلوم بھیونڈی وناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں