src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

ہفتہ، 19 اگست، 2023





بمبئی جامع مسجد کا وقار، شعیب خطیب کے سیاسی داؤ پر! 

جامع مسجد ممبئی اور مسلمانانِ کوکن کی نسبت کے حوالے سے: 

✍: سمیع اللہ خان

 بمبئی کی جامع مسجد ایک طویل عرصے سے ممبئی سمیت کوکن اور مہاراشٹر کے مسلمانوں کا مضبوط اور نہایت باوقار مرکز ہے، آج بھی ممبئی کی جامع مسجد کو یہ مرکزیت اور وقار حاصل ہے، لیکن جامع مسجد کے موجودہ ٹرسٹی شعیب خطیب کی مسلسل سیاسی بازی گری کی وجہ سے جامع مسجد ممبئی کا وقار داؤ پر لگنے جارہا ہے، جسے بچانا اور محفوظ کرنا ممبئی سے لےکر کوکن تک کے ہر مسلمان کی دینی اور ایمانی ذمہ داری ہے، اگر جامع مسجد ممبئی کی نسبت سیاسی مقاصد کے لیے کھلونا بن کر رہ گئی تو یہ ممبئی اور مہاراشٹر میں مسلمانوں کا تاریخی خسارہ ہوگا ۔


 شعیب خطیب جب سے جامع مسجد ممبئی میں کے ٹرسٹ میں بااثر طورپر داخل ہوئے ہیں انہوں نے اپنی حرکتوں کی وجہ سے پہلے دن سے ہی جامع مسجد کےخلاف سوال کھڑے کروانے شروع کردیے تھے، لوگوں نے جامع مسجد کی نسبت اور اس کی اب تک کی بےداغ اور عظمت بھری تاریخ کی وجہ سے شعیب خطیب کے سیاسی کردار کو نظرانداز کررکھا تھا کہ شعیب کی سیاسی حرکتوں پر بولنے کی وجہ سے کہیں جامع مسجد عوامی چرچا اور سیاسی گلیاروں کا موضوع بن کر متنازع نہ بن جائے، صرف اسی وجہ سے شعیب خطیب کی حرکتوں کو آج تک نظرانداز کیا جاتا رہا، ورنہ لاکڈاؤن کے دوران شعیب خطیب اور قبرستان میں تدفین کو لے کر جو حقائق ہیں وہ خود کافی خطرناک ہیں ۔

 شعیب خطیب مہاوکاس۔آگھاڑی سرکار کے دوران جامع مسجد سے اپنی نسبت کو استعمال کرکے مہاوکاس اگھاڑی سرکار کے وزیروں میں بھی اپنی رسائی بناتے رہے، جامع مسجد میں کوئی کام کرتے تو عجیب طرز پر مہاراشٹر سرکار کے وزیروں کو بلوا کر مسجد میں سیاستدانوں کےساتھ فوٹو کھینچوانے لگ جاتے، خطیب کی اس حرکت پر بھی کافی بےچینی پائی گئی تھی ۔


 اب چند روز پہلے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہائی مسلم۔دشمن اور نفرتی لیڈر اشیش شیلار کےساتھ نظر آئے، اشیش شیلار شعیب خطیب کو بھاجپا کی آفیشل شال پہنا رہےتھے، شعیب خطیب خوشی خوشی بھاجپا کے کنول والی شال سر جھکا کر پہن لیتے ہیں، بھاجپا کے ممبئی کیڈر کے افراد شعیب خطیب کا بھارتیہ جنتا پارٹی میں استقبال بھی کرتے ہیں، ٹائمز آف انڈیا سے لے کر بےشمار ذرائع اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں، اگر وہ تصدیق نہ بھی کرتے تو بعض تصاویر ایسی ہوتی ہیں جو حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں، شعیب خطیب جس نیازمندی کےساتھ اشیش شیلار کے سامنے سرجھکائے بھارتیہ جنتا پارٹی کی شال اوڑھ رہے تھے وہ ان کی ملّی بےغیرتی، سیاسی مفاد پرستی کو واضح کرنے کےساتھ ساتھ اپنے دنیاوی مفادات کے لیت کسی بھی حد تک باطل سے سمجھوتہ کرنے والی ان کی ذہنیت کو بیان کرنے والی منہ بولتی تصویر ہے، 

 اس حرکت کی کوئی تاویل کوئی توضیح نہیں ہوسکتی چہ جائیکہ اس کی جھوٹی تردید کے ذریعے بچ نکلنے کا بہانہ تراشا جائے، اس حرکت کےبعد شعیب خطیب کو ان کے مجموعی " جامع مسجد مخالف  کارناموں " کے بدلے ٹرسٹ سے باہر کا راستہ دکھانا ضروری ہے، شعیب خطیب کے ان کارناموں کی وجہ سے کوکن کے اچھے مسلمانوں کی شبیہ بھی بری طرح متاثر اور سوالات کے گھیرے میں آئی ہے اس لیے بھی اب شعیب خطیب کو ٹرسٹ سے خود ہی باہر ہوجانا چاہیے، 

 ویسے مجھے ذاتی طورپر اس طرح کے سوالات سے اتفاق نہیں ہے، جو لوگ شعیب خطیب کی سیاسی ذہنیت اور جامع مسجد کےنام پر کی جارہی ان کی استحصالی حرکتوں کی وجہ سے کوکنی مسلمانوں پر سوال اٹھا رہے ہیں وہ غلط رجحان پر ہیں، کسی بھی فرد کی غلطی کو کسی بھی علاقے اور قوم کے تمام لوگوں کے سر پر نہیں ڈالا جاسکتا ہے، ہم خود کوکن میں رہتے ہیں، کوکن کے مسلمانوں کا لیڈر ایسا کوئی شعیب خطیب نہیں ہے، نہ ہی شعیب خطیب کوکنی مسلمانوں کے نمائندہ ہیں،  کوکن کے مسلمان بہت نیک دل، سادہ لوح اور اسلام پسند مومن ہوتے ہیں، اسلام اور دین کی نسبت پر شعیب خطیب جیسے سیاسی ذہنیت کے لوگ ان کا استحصال کرتے ہیں، جامع مسجد کے ٹرسٹی ہونے کی نسبت سے وہ کوکنی مسلمانوں کا صرف نام استعمال کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، شعیب خطیب یا کوئی بھی ٹرسٹی کوکنی مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ جامع مسجد بمبئی کے جو امام صاحب ہوتے ہیں وہ یہاں کے مذہبی نمائندہ ہوتے ہیں عام مسلمان اور کوکن کی تمام جماعتِ مسلمین جامع مسجد ممبئی کے امامِ عالی وقار پر اعتماد کرتے ہیں، کوکن کے مسلمان جامع مسجد ممبئی کے امام سے عقیدت رکھتے ہیں نہ کہ اس کے ٹرسٹیوں سے، جیسے جیسے کوکن کے ذمہ دار، اصول پسند اور غیرت مند علماء و خواص کو شعیب خطیب کے اصلی کارناموں کا پتا چلےگا سب ان سے برات کرنے لگ جائیں گے، مسئلہ یہ ہے کہ جامع مسجد کے نام اور اس کی نسبت کی آڑ میں بہت کچھ ڈھک جاتا ہے، 

 جامع مسجد ممبئی کا وقار اہل اسلام کا وقار ہے، جامع مسجد ممبئی، ممبئی اور خطہءکوکن سمیت مہاراشٹر میں بھی مسلمانوں کی طاقت کا ایک مرکز ہے، البتہ اب شعیب خطیب جیسے موقع پرست سیاستدانوں کی وجہ سے اس پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں تو اسے تمام مخلص مسلمانوں نے محسوس کرنا چاہیے، ممبئی کے بااثر اور معتبر علما و مفتیان کو اس بابت سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، ممبئی اور کوکن کے سینئر علما و ذمہ داران کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اور اس سے پہلے کہ جامع مسجد کے نام کا سیاسی استحصال انتہائی ہوجائے اور جامع مسجد ممبئی گندی سیاست کے ہتھے چڑھ جائے اس معاملے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مخلصین کو آگے آنا چاہیے، جن کے دلوں میں ایمان، اسلام، بیوت اللہ اور اہلِ اسلام کا وقار و مفاد ہر شئی سے بلند تر ہو وہ آگے آئیں،  ابھی دیر نہیں ہوئی ہے لیکن دیر ہوسکتی ہے، جامع مسجد ممبئی اہلِ حق اکابر و مشائخ کی مسند رہی ہے، ماضی قریب میں حضرت مولانا شوکت نظیری صاحبؒ کی درویشی اور مجاہدوں نے اس مسجد کے وقار کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچایا ہے، مولانا مرحوم منتخب اللہ والوں میں سے تھے، ان کے اس عظیم ورثے کو ملت کے لیے باقی رہنے دیں، جامع مسجد بمبئی کی نسبت استعمال کرنے والے جتنے بھی لوگ ہیں وہ کم از کم حضرت مرحوم سے تو وفاداری دکھائیں، سیاسی مفادات کی تاک میں رہنے والے لوگ مرحوم مولانا شوکت نظیری صاحبؒ کے سینچے ہوئے گلستان میں "فرضی مالی" کا رول ادا کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے_

samiullahkhanofficial97@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages