ایکناتھ شندے کا بیٹا ایم پی ہے، کیا میرا بیٹا آگے نہیں بڑھنا چاہیے: ادھو ٹھاکرے
پارٹی میں بغاوت سے لڑ رہے شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے ، نے جمعہ کو ضلعی یونٹ کے سربراہوں سے بات چیت کی۔ اور انہیں جذباتی پیغام دے کر کہا کہ کوئی درخت کے پھل پھول اور ٹہنیاں تو لیجاسکتا ہیں لیکن جڑیں نہیں توڑ سکتا۔ شیوسینک ہماری روح ہیں۔ تھوڑی دیر بعد شندے کیمپ نے ویڈیو پیغام جاری کرکے جوابی حملہ کیا۔ باغی لیڈر یشونت جادھو کی اہلیہ یامینی جادھو نے کہا کہ آپ ہمیں خاندان سمجھتے ہیں لیکن جب میں کینسر سے لڑ رہی تھی تو پارٹی قیادت نے بھی پرواہ نہیں کی۔
شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے پارٹی عہدیداروں سے کہا، وزیراعلی کی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دی ہے، لیکن اپنا ارادہ ترک نہیں کیا ہے۔ ہمارا عزم برقرار ہے۔ باغی لیڈر ایکناتھ شندے کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا لوک سبھا کا رکن ہے، تو کیا میرے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کو سیاسی طور پر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ایکناتھ شندے کے بیٹے شری کانت شندے کلیان سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ہیں، جب کہ وزیر اعلیٰ کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے ریاست میں کابینی وزیر ہیں۔
پارٹی کے ضلع یونٹ کے سربراہوں سے ڈیجیٹل کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے، ادھو نے کہا، "میں نے ایکناتھ شندے کے لئے سب کچھ کیا ہے۔ میرے پاس جو شعبہ تھا وہ انہیں دے دیا۔ ان کا اپنا بیٹا آج ایم پی ہے لیکن میرے بیٹے کے بارے میں تبصرے ہو رہے ہیں۔ مجھ پر بہت سے الزامات لگائے گئے ہیں۔ مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ہے۔ جو کہتے تھے ہم مر جائیں گے لیکن شیوسینا نہیں چھوڑیں گے، آج بھاگ گئے۔ باغی شیوسینا کو توڑنا چاہتے ہیں۔ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ بالا صاحب اور شیوسینا کا نام لیے بغیر لوگوں کے درمیان جائیں۔
شیوسینا کے سربراہ نے کارکنوں سے کہا کہ آپ درخت کے پھل پھول لیںتے ہیں لیکن جب تک جڑیں (افسران اور کارکنان) مضبوط ہیں مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جڑیں کبھی اکھڑ نہیں سکتیں۔ ہر موسم میں نئے پتے آتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں۔ بیمار پتوں کو توڑ کر پھینکنے کی ضرورت ہے۔ پہلے بھی پارٹی میں بغاوت کے باوجود شیوسینا دوبار اقتدار میں آئی تھی۔ شندے کی بغاوت کا شیو سینا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ٹھاکرے نے سیاسی بحران کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ شندے نے انہیں کچھ عرصہ قبل بتایا تھا کہ ایم ایل ایز محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ واپس جانا چاہئے۔ آپ کس قسم کے شیوسینک ہیں؟ کیا آپ بی جے پی کی 'استعمال کرو اور پھینک دو' کی پالیسی اور ماتوشری کے خلاف بے بنیاد الزامات سے دکھی نہیں ہیں؟ آپ ٹھاکرے کا نام اپنی سیاست سے باہر رکھیں۔
21 جون: ایکناتھ شندے 14 شیوسینا ایم ایل ایز کے ساتھ سورت پہنچے۔ تمام ایم ایل اے ہوٹل لا میریڈین میں ٹھہرے۔
22 جون: گوہاٹی میں بیٹھے شندے نے شیوسینا کے چیف وہپ سنیل پربھو کو عہدے سے ہٹا دیا۔
23 جون: باغی ایم ایل اے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو خط لکھا۔ ایک ویڈیو میں شندے نے اشارہ کیا کہ اس کے پیچھے کون سی سپر پاور کام کر رہی ہے۔
21 جون: ادھو ٹھاکرے نے شیوسینا کے ایم ایل ایز کی بغاوت کے پیش نظر تصفیہ کے لیے دو ایلچی بھیجے۔ شرد پوار نے کہا کہ یہ شیوسینا کا اندرونی معاملہ ہے۔
22 جون: ادھو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے نکلے۔ فیس بک لائیو پر کہا- شندے, مجھ سے بات کریں ، میں وزیر اعلیٰ اور شیوسینا صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دوں گا۔
23 جون: سنجے راؤت نے گٹھ بندھن چھوڑنے کی بات کہی۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں