لاؤڈ اسپیکر تنازعہ کے درمیان شرد پوار کی موجودگی میں مہاوکاس اگھاڑی کی میٹنگ میں لیا گیا یہ فیصلہ
نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر کے تنازع پر جاری گھمسان کے درمیان مہاوکاس اگھاڑی دل کی میٹنگ بلائی تھی۔ یہ میٹنگ آج ممبئی میں سہیادری راجیہ گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، بالاصاحب تھوراٹ، جینتی پاٹل، دادا جی دگڑو بھسے سمیت کئی دیگر لیڈران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔
مہا وکاس اگھاڑی دل کے مطابق اس میٹنگ کے ایجنڈے میں قبائلی علاقوں میں خواتین کے روزگار، صحت اور تعلیم جیسے مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات نے بتایا کہ اس میٹنگ میں قبائلی خواتین کی زندگیوں کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ فیصلے کیے گئے۔
تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں مہاراشٹر کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلۃ خیال کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ اس وقت مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر اور ہنومان چالیسہ کے معاملے پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ اسی سلسے میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہی نہیں ایم این ایس کے 200 سے 250 کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکرز کے حوالے سے 3 مئی کے الٹی میٹم کے ختم ہونے کے بعد، راج ٹھاکرے اور ان کے کارکن بدھ کے دن اپنے اعلان کے مطابق لاؤڈ اسپیکر اتروانے کے لیے سڑک پر آگئے تھے ۔ کارکنوں نے ان مساجد کے قریب ہنومان چالیسہ پڑھنے کی کوشش کی جہاں لاؤڈ اسپیکر لگے تھے۔ پولیس نے بڑی تعداد میں ایم این ایس کارکنوں کو گرفتار کیا۔ صبح سے دوپہر تک یہ ہائی وولٹیج کا ڈرامہ جاری رہا۔ اس کے بعد راج ٹھاکرے نے پریس کانفرنس کی اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔
راج ٹھاکرے نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ان کا احتجاج کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں ہے، یہ احتجاج مذہبی نہیں بلکہ سماجی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اگر مندروں پر لاؤڈ اسپیکر غلط طریقے سے لگا ہے تو اسے بھی ہٹا دیا جائے۔ ہم کسی بھی مذہبی مقام پر لاؤڈ سپیکر کے قوانین کی خلاف ورزی کے حق میں نہیں ہیں۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ آج 4 تاریخ ہے۔ ہم نے حکومت کو 3 مئی تک کا ِالٹی مٹیم دیآ تھا اور کہا تھا کہ تمام لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے جائیں۔ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت نے انہیں مقررہ وقت میں نہیں ہٹایا تو ہم ان مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھیں گے۔ ہم نے اپنے پہلے اعلان کے طور پر وہی کیا. مہاراشٹر پولس ہمارے کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ میں پولیس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج بھی 1500 مساجد میں سے 135 مساجد میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان دی گئی ہیں۔ آخر ان پر کاروائی کون کرے گا؟ آپ ہمارے کارکنوں پر کاروائی کر رہے ہیں، لیکن ان پر نہیں۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں