src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> راجستھان کے بھرت پور میں یکے بعد دیگرے دو لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری سے سنسنی! - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 4 جون، 2021

راجستھان کے بھرت پور میں یکے بعد دیگرے دو لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری سے سنسنی!


راجستھان کے بھرت پور میں

 یکے بعد دیگرے دو لڑکیوں

 کی اجتماعی عصمت دری

 سے سنسنی!


رات کو اپنے گھر پر سورہی دوشیزہ کو

 اٹھا کر لے جایا گیا تو بکریاں چرانے

 والی لڑکی بھی جنسی درندگی کی

 بھینٹ چڑھ گئی!!! 


              خیال اثر مالیگانوی 


ہندوستان پر جب سے بھاجپا نے اقتدار سنبھالا ہے یکے بعد دیگرے بیشتر ریاستوں پر بھی اپنا تسلط قائم کرکے بھگوا دھاری شدت پسندی کو ہوا دے دی ہے. "جب سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا "کے مصداق  غنڈہ عناصر کے دل و دماغ سے قانون و عدلیہ کا ڈر اور خوف نا پید ہو گیا ہے. چہار جانب غنڈہ گردی, دہشت گردی کا ماحول دن بدن بڑھتا جارہا ہے. چوری, ڈکیتی ,لوٹ مار, قتل و خون کے علاوہ نشہ آور ادویات کا استعمال دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے. اس کے علاوہ وہ خواتین جو یشودھا, سرسوتی اور میرا کی ہم جنس کہلاتی ہیں کو سرعام رسوائی کے غاروں میں ڈھکیل دینا بھی روز مرہ کا معمول بن کر رہ گیا ہے. کہیں سفر میں مصروف جوڑوں کو سرعام راہ روکتے ہوئے سنسنان علاقوں میں لے جا کر شوہر اور بچوں کے سامنے ہی بیوی کی اجتماعی عصمت دری کرتے ہوئے اسے بے دردری کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے. ایسے شرمناک واقعات زیادہ تر ان ہی ریاستوں میں وقوع پذیر ہورہے ہیں جہاں بھاجپا کی حکومتیں ہیں. اگر اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو کیرل, مدراس, تامل ناڈو, بنگال, حیدر آباد, مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ایسے نازیبا واقعات خال خال ہی پیش آتے ہیں جبکہ مدھیہ پریش, اتر پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں اجتماعی عصمت دری اور قتل خون کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ثابت کرتی ہیں کہ روز بروز رونما ہونے والے یہ شرمناک واقعات بھاجپائی ذہنیت کے عکاس ہیں.
 گزشتہ 21 مئی کو مشرقی راجستھان کے بھرت پور ضلع کےکمان نامی قصبہ  میں پیش آنے والا واقعہ بھی بھاجپا کے دامن پر ایک بد نما داغ بن کر ابھر آیا ہے. حالیہ شدہ واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک غریب لڑکی اپنی جھونپڑی میں محو استراحت تھی کہ رات دیر گئے بستی کے ہی دو افراد نے نے اسے نیند کی آغوش سے نکال  کر دور دراز کے ویران علاقے میں لے جا کر یکے بعد دیگرے اپنی جنسی بھوک بجھا لی. متاثرہ کی فریاد اور نشان دہی پر مقدمہ کا انداراج کیا گیا.ضلع کے ڈی وائے ایس پی پردیپ یادو کے مطابق متاثرہ شکایت کا اندراج کرتے ہوئے سرکاری ہسپتال میں اس کا طبی معائنہ کیا گیا جس سے جنسی درندوں کی خباثت کھل کر سامنے آ گئی ہے. پولیس عملہ ملزمین کا  تعاقب کرتے ہوئے  اپنی تگ و دو میں مصروف ہے ہو سکتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں فعال و متحرک پولیس عملہ ملزمین کی گردن دبوچتے ہوئے عدالت کے کٹہرے میں انھیں مجرم بنا کر پیش کردے. ضلع بھرت پور کے کمان  نامی قصبہ کے ویرانوں سے ابھی اس الہڑ دوشیزہ کی فلک شگاف چیخیں ذہن و دل کو جھنجھوڑ ہی رہی تھیں کہ اسی ریاست کے اسی ضلع بھرت پور کے شہر سیما پروتی کے قصبہ کرولی سے ایک اور شرمناک واقعہ کی بازگشت ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا جگر چاک کرتی ہوئی حساس دلوں کی سماعتوں کو زخم زخم کر گئی. یہ دوسرا المناک و شرمناک دل دوز واقعہ یہ ہے کہ ایک دیہاتی لڑکی اپنی بکریوں کا غول چرانے کے لئے سبزہ زاروں کی جانب رواں دواں تھی کہ سنسان علاقہ دیکھ کر دو جنس زدہ شیطانوں نے اسے دھر دبوچا. جی بھر کر اپنی جنسی تسکین کی جلتی آگ کو پہلے تو ٹھنڈا کیا اور پھر ثبوت و شواہد مٹانے کی غرض سے الہڑ دوشیزہ کو ایک اندھے گہرے کنویں میں پھینکتے ہوئے اس کی جان لے لی. مذکورہ دونوں واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بھاجپائی ذہنیت پر غنڈہ گردی اور جنسی درندگی کا شیطان کچھ اس طرح حاوی ہو گیا ہے کہ ہر ذی روح کا کلیجہ کانپ کانپ جاتا ہے. ہندوستانی تہذیب اور فضاؤں میں آج بھی اگر سرسوتی کی ونددنا کی جاتی ہے تو گلیوں گلیوں میرا کے بھجن گائے جاتے ہیں. نہ جانے کتنی سیتاؤں کو نا کردہ جرموں کے طفیل اگنی پریکشا سے گزرنا پڑتا ہے. آج کے نامساعد حالات ثابت کرتے ہیں کہ نہ صرف رام بلکہ ہر عام انسان کو بن باس کے کڑے برسوں تک گزرنا ہوگا اور رہی بات قانون و عدلیہ کی تو وہ مجبور و بےبس بنا محو تماشہ ہے حالانکہ "کہانی میں تو لکھا ہے کہ روان ہار جاتا ہے "لیکن آج کے دور بے بضات میں جیت راون کی ہوتی ہے اور رام کو بن باس کی سزائیں جھلینا پڑتی ہیں. دن بدن اجتماعی عصمت دری کے سانحات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے. بیشتر واقعات کے مجرمین قانون کی گرفت میں آتے بھی ہیں لیکن قانون و عدلیہ کی منہ شگافیاں اظہر من الشمس ہیں. چند دن, چند مہینے یا چند سال پابند سلاسل رہنے کے بعد یہ جنس زدہ شیطان صفت درندے انہی شاہراؤں پر کسی اور شکار کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں لیکن ایسے جنسی درندوں کی بھینٹ چڑھنے والی ان معصوم ناریوں کی زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی ہیں. وہ لمحہ بہ لمحہ زندہ در گور ہوتی جاتی ہیں اور ہمارا بےحس سماج و معاشرہ ان کی جانب سے کسی شتر مرغ کی طرح آنکھیں پھیر لینا پنا وطیرہ خاص بنا لیتا ہے. جنسی تشدد کی شکار لڑکیاں یا تو شرم سے اپنا منہ چھپائے والدین کے سینوں پر بوجھ بنی بیٹھی رہتی ہیں یا پھر زندہ گوشت کی  دکانوں کے سو کیشوں کی زینت بنی ہر پل ہر لمحہ اپنے بدن کی تکا بوٹی کروانے پر مجبور ہو جاتی ہیں.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages