src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> ہندوستان میں عصمت دری کی شرمناک وارداتوں میں ریکارڈ توڑ اضافہ !! معصوم دوشیزاؤں کی فلک شگاف چینخوں سے دل آنگن چھلنی!!! - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

پیر، 14 جون، 2021

ہندوستان میں عصمت دری کی شرمناک وارداتوں میں ریکارڈ توڑ اضافہ !! معصوم دوشیزاؤں کی فلک شگاف چینخوں سے دل آنگن چھلنی!!!

 




ہندوستان میں عصمت دری

 کی شرمناک وارداتوں میں

 ریکارڈ توڑ اضافہ !!

معصوم دوشیزاؤں کی فلک شگاف

 چینخوں سے دل آنگن چھلنی!!!


                خیال اثر مالیگانوی  


ہندوستان جیسے ملک میں اقتدار کی منتقلی کے بعد جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے. ملک کے کسی نہ کسی گوشے سے اجتماعی عصمت دری کے واقعات کی گونج سنائی دیتی ہے اور  دل دہل اٹھتا ہے. جنسی کج روی کے شکار افراد جھونپڑوں میں سوئی غریب دوشیزاؤں کو زبردستی اٹھا لے جاتے ہیں. کبھی سفر میں مصروف خواتین کو زبردستی روک کر ان کے شوہروں اور بچوں کی نگاہوں کے سامنے ہی نہ صرف اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں بلکہ ثبوت مٹانے کی غرض سے ان کی جان بھی لے لیتے ہیں. کبھی گلناز بانو کو شاہراہ عام پر زندہ نذر آتش کردیا جاتا ہے کبھی کسی خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی سے پہلے اسی کے ہی کپڑوں سے اس کے شوہر کو درخت سے باندھنے کے بعد اس کی نگاہوں کے سامنے ہی جنسی پیاس بجھائی جاتی ہے. کبھی علاج کے لئے اسپتال میں داخل شدہ خاتون مریضہ کو ڈاکٹر اور طبی عملہ کمرے میں بند کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہے. کسی شاپنگ مال میں مرکزی وزیر کی نیم برہنہ تصویر بنانے پر آسمان سر پر اٹھا لینے والا گودی میڈیا غریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری اور ان کی جان لینے پر چپ سادھے بیٹھا رہتا ہے. جس ملک میں گلیوں گلیوں میرا کے بھجن گونجے تھے, جس ملک میں سیتا اور سرسوتی کی وندنا کی جاتی ہو  جس ملک میں ساوتری بائی پھلے نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی, جس ملک میں کستوربا گاندھی نے مہاتما گاندھی  کےقدم سے قدم ملا کر آزادی کے چراغ جلائے تھے, جس دیش نے  خواتین کے مان سمان کے لئے بے شمار یوجنائیں ترتیب دی ہیں, ارونا آصف علی نے گاندھی جی کی ڈانڈی یاترا کو استحکام عطا کیا تھا آج اسی دیش میں میرا کے بھجن کی بجائے جنسی شیطانوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی بےبس خواتین کی چینخیں گونج رہی ہیں. سرسوتی اور سیتا کی وندنا کی بجائے زندہ نذر آتش کی جانے والی گلناز بانو جیسی بے شمار دوشیزاؤن کی آہ و بکا ابھر کر سماعتوں  کو چھلنی کئے جارہے ہیں. 
ہندوستان کے چپے چپے سے ابھرنے والی معصوم دوشیزاؤں کی چیخیں ابھی تھمی بہ نہیں تھی کہ یوگی کے اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے سروجنی نگر علاقہ سے ایک 18 سالہ دوشیزہ کی لاش نے ملک کے طول و عرض میں سنسنی پھیلا کر رکھ دی. دوشیزہ کی لاش کے قرب و جوار میں شراب کی بوتلیں موجود تھیں. دوشیزہ کے تن بدن پر بے شمار زخموں کے نشانات ثابت کررہے تھے کہ جنسی شیطانوں نے پہلے تو جی بھر کر شراب پی ہوگی اور جب  وہ18 سالہ دوشیزہ  اپنی عصمت کی تاراجی پر تیار نہیں ہوئی ہوگی تو اسے بری طرح زد و کوب کیا گیا ہوگا اور جب وہ لڑکی دردسہتے سہتے زخموں سے  بیگانہ ہوگئی ہوگی تو جنسی درندوں نے یکے بعد دیگرے اپنی ہوس کا شکار بنایا ہوگا. یہ چیخیں لکھنو کے سروجنی نگر علاقہ سے 18 سالہ دوشیزہ کی لاش ہمیں اپنی پلکیں موندے رکھنے پر مجبور ہی کررہی تھیں اور فلک شگاف چیخوں نے ہماری سماعتوں کو بیگانہ کردیا تھا کہ پیرا سنڈ روڈ پر جواہر نوودیاودیالیہ کے سامنے جنگل میں ایک 22 سالہ لڑکی کی نیم برہنہ لاش کی تصویریں ہماری آنکھوں کے پردوں پر چسپاں ہو گئیں. اس لڑکی کے ہاتھوں پر تیز دھار ہتھیار کے بے شمار زخموں کے نشانات تھے. اس 22 سالہ مقتولہ  نیلے رنگ کی جینس اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی. اس 22 سالہ لڑکی کی لاش کے قریب  بھی شراب کی بوتلیں  دستیاب ہوئیں. جائے واردات پر جب اس بارے میں ڈی سی پی سے سوال کیا گیا تو انھوں نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ جنگل میں شمار ہوتا ہے. شراب کے شوقین افراد شراب پینے کے بعد یہاں خالی بوتلیں پھینک جاتے ہیں.
 آخر کب تک ہمارے اس دیش میں یشودھاؤں سیتاؤں اور زلیخاؤں کی آہ و بکاہ گونجتی رہے گی. آخر کب تک راون جیسے جنسی بھیڑیئے عفت مآب دوشیزاؤں کی عزت  تاراج  کرتے رہیں گے. ہندوستان کے طول و عرض سے اتنی دوشیزاؤں کی چیخیں گونج رہی ہیں کہ ہم اپنی بیاض دل پر ان کا شمار کرتے کرتے تھک سے گئے ہیں حالانکہ ہمارے کان مجبور دوشیزاؤں کی چیخوں نے بہرے کئے ہیں تو آنکھوں کی جوت بھی بجھا دی ہے. آج ہمارے ہاتھ دوشیزاؤں کے اعداد و شمار لکھتے ہوئے شل ہو کر رہ گئے ہیں لیکن قانون و عدلیہ ہے کہ خواب خرگوش میں گم ہے. جنسی درندے آزاد گھوم رہے ہیں. قانون برسوں خاطی افراد کی آؤ بھگت میں مصروف رہنے کے بعد چشم دید گواہ کی غیر موجودگی کا جواز تلاش کرنے کے بعد انھیں عزت مآب بنا کر  آزاد کر دیتا ہے کہ وہ پھر کسی معصوم دوشیزہ کی عزت و عفت کو تاراج کرنے کے لئے بلا خوف و خطر نکل کھڑے ہوں اور جوں ہی کوئی معصوم دوشیزہ ان کے چنگل میں آپھنسے وہ اپنے ساتھ شراب کی بوتلوں کا ذخیرہ لئے پہلے تو جام پر جام لنڈھائے اور جب ان کے دل آنگن میں کیف و مستی کا سرور اپنی رنگینیاں بکھیرنے لگے تو وہ اپنے چنگل میں پھنسی ہوئی معصوم دوشیزاؤں کی پہلے تو جی بھر کر تاراجی کریں اور پھر ثبوت مٹانے کی غرض سے اسے جان سے مار ڈالیں. کب تک آخر کب تک یہ شرمناک  کھیل جاری رہے گا. کب تک آخر کب تک معصوم دوشیزاؤں کی درد بھری چینخوں سے ہمارے کانوں کے پردے پھٹتے رہیں گے. کب تک آخر کب تک ہمارے آنکھوں کے کینوس پر عصمت دری کی شکار معصوم دوشیزاؤں کی لاشوں کی خون آلو تصویریں آتی اور جاتی رہیں گی. کب تک آخر کب ؟؟؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages