اضافی گھرپٹی سروے کے خلاف ڈاکٹر خالد پرویز کی تحریک کا اثر
”می مالیگاٶنکر“ نامی سماجی تنظیم بھی گھر پٹی میں اضافے کے سروے کے خلاف میدان میں
مالیگاٶں (نامہ نگار) مالیگاٶں میونسپل کارپوریشن کے شہر دشمن فیصلوں کے خلاف ناراضگی بڑھتی نظر آرہی ہے ۔ گذشتہ دنوں چور دروازے سے اضافی گھر پٹی سروے کو کانگریس برسراقتدار گروپ نے چور دروازے سے منظوری دی اور اسکے سروے کا ٹینڈر بھی 223 روپیٶں کی جگہ 715 روپیۓ فی ملکیت کے حساب سے دے دیا گیا ۔ جس کے خلاف مجلس اتحادالمسلمین کے ایم ایل اے مفتی محمد اسمعیل کی ایما پر ڈاکٹر خالد پرویز و حافظ عبداللہ نے آواز بلند کی اور پورے شہر میں کارنر میٹنگیں لے کر عوامی بیداری کرنے اور کانگریس کے مکروہ عوام دشمن چہرے کو عوام سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی ۔ جس کا نتیجہ ہوا کہ کانگریس کے عوام دشمن فیصلوں کا علم عوام کو ہوا اور شہر بھر میں کانگریس پارٹی کے خلاف عمومی ناراضگی کا ماحول بنتا نظر آیا ۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق ندی کے اُس پار جہاں اکثریت سے برادران وطن رہاٸش پذیر ہیں وہ بھی اضافی گھر پٹی سروے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوٸے ۔ اور انہوں نے متفقہ طور پر سروے کرنے والے ملازمین سے کسی بھی قسم کا تعاون نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ اور سروے کرنے والے ملازمین کو بھگا دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔
”می مالیگاٶنکر“ نامی تنظیم کے لوگوں نے بھی الزام لگایا ہے کہ اگر گھر پٹی بڑھانے کا کوٸی ارادہ نہیں ہے تو 7 کڑوڑ عوامی روپیٶں کے صرفہ کا کیا مقصد ہے ۔ پروفیسر کے این آہیرے نے ڈاکٹر خالد پرویز کے اس موقف کو دہرایا جس میں ڈاکٹر خالد نے پراٸیوٹ کمپنی کو سروے کا ٹھیکہ نہ دے کر کارپوریشن کے ملازمین و پربھاگ ادھیکاریوں کے ذریعے سروے کروانے کی مانگ کی تھی ۔
دوسری جانب ندی کے اِس پار جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے یہاں کے کانگریسی لیڈروں نے گھر پٹی سروے کو عوام کے لیۓ تحفہ بتاتے ہوٸے عوام کی جیب پر منصوبہ بند طریقے سے ڈاکہ ڈالنے اور اپنا گھر بھرنے کے اپنے پروگرام پر اٹل ہیں ۔ لیکن عوام اب بیدار ہوچکی ہے ۔ اور کانگریس کے مکروہ اور گھپلے باز چہرے سے واقف ہوچکی ہے ۔ اور ان شااللہ آنے والے کارپوریشن چناٶ میں ایسے نکمے نااہل اور گھپلے باز کانگریسی ٹولے کو ضرور سبق سکھا کر گھر کا راستہ بتاۓ گی ۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں