بی جے پی سے گٹ بندھن کے خلاف کانگریس پارٹی کی سخت کارروائی ،مالیگاؤں کے شہر صدر اعجاز بیگ معطل، 7 دن میں جواب یا سخت ترین کارروائی کا عندیہ
مالیگاؤں :(نامہ نگار) مالیگاؤں کی سیاست ایک بار پھر شدید ہلچل کی زد میں آ گئی ہے۔ کانگریس کے شہری صدر اعجاز بیگ پر بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن کا معاملہ سامنے آتے ہی مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے غیر معمولی سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔ پارٹی قیادت نے نہ صرف اعجاز بیگ کو مالیگاؤں شہر کانگریس کمیٹی کی صدارت سے برطرف کر دیا بلکہ آئندہ احکامات تک انہیں پارٹی کی تمام سرگرمیوں سے بھی معطل کر دیا ہے، جس سے شہر کی سیاست میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، چند روز قبل مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کے تین کارپوریٹروں نے بی جے پی کے دو کارپوریٹروں کے ساتھ مشترکہ طور پر گروپ تشکیل دیا۔ اس پیش رفت میں شہر صدر اعجاز بیگ کا نام سامنے آتے ہی کانگریس کی ریاستی قیادت حرکت میں آ گئی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کانگریس کی پالیسی، نظریے اور پارٹی ڈسپلن کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی کانگریس کی جانب سے جاری باضابطہ حکم نامے میں واضح طور پر درج ہے کہ اعجاز بیگ کانگریس کے انتخابی نشان پر منتخب رکن ہیں اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ میونسپل کارپوریشن میں اپنا علیحدہ کانگریسی گروپ رجسٹر کریں۔ اس کے برخلاف اطلاعات موصول ہوئیں کہ انہوں نے اپنا گروپ بی جے پی کے ساتھ رجسٹر کروا لیا، جسے پارٹی قیادت نے سنگین بدعنوانی اور نظم و ضبط کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اسی تناظر میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اعجاز بیگ کو مالیگاؤں شہر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ساتھ ہی انہیں کانگریس پارٹی سے آئندہ احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ نافذ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پارٹی قیادت نظم و ضبط پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اعجاز بیگ کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں سات دن کے اندر اندر ریاستی کانگریس دفتر کو تحریری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نوٹس میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ وہ وضاحت دیں کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے پیش نظر انہیں کانگریس سے مستقل طور پر کیوں نہ نکال دیا جائے۔ اگر مقررہ مدت میں جواب موصول نہیں ہوا تو یہ مان لیا جائے گا کہ ان کے پاس صفائی میں کچھ نہیں ہے اور ان کے خلاف مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ حکم نامہ کانگریس پارٹی کے لیٹر پیڈ اور سینئر نائب صدر ایڈوکیٹ گنیش پاٹل کے دستخط کے ساتھ پر جاری کیا گیا ہے، جس نے معاملے کو مزید سنجیدہ رخ دے دیا ہے۔ اس اچانک اور سخت اقدام کے بعد مالیگاؤں کی سیاسی فضا میں بے چینی پھیل گئی ہے، کارکنان میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں اور شہر کی سیاست ایک نئے، غیر یقینی اور ہنگامہ خیز دور میں داخل ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں اعجاز بیگ کی وضاحت اور کانگریس کی اگلی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف مقامی سیاست بلکہ ریاستی سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں