میونسپل الیکشن کے لیے ریزرویشن سے مسلم لیڈرشپ کے متاثر ہونے کا امکان: ابو عاصم اعظمی
ممبئی : سماج وادی پارٹی آئندہ ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں مجموعی طور پر ڈیڑھ سو نشستوں پر امیدوار کھڑے کرے گی۔اس کااعلان پارٹی صدر ابو عاصم اعظمی نے کیا۔جبکہ میونسپل حلقوں میں ریزرویشن پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کی وجہ سے مسلم لیڈرشپ کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔پھر ہم اعتماد اور عزم کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔ابوعاصم نے کسی بھی انتخابی اتحاد سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں تلخ تجربہ ہواہے۔ گفتگو کے باوجود سماج وادی پارٹی کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔ اس لیے اتحاد نہیں کرنا ہے کیونکہ ہمارے جائزہ میں ہمارا ووٹ بینک ایک سو پچیس سے ایک سو پچاس کے درمیان نظر آتا ہے ۔
ابو عاصم اعظمی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ چار سال سے میونسپل کارپوریشن کا ایکشن نہیں ہونے کی وجہ سے ترقی متاثر ہورہی ہے۔عوام پریشان ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اعلی لیڈرشپ اعتراف کرتی ہے کہ سرکاری فنڈ لاڈلی بہنا میں استعمال ہوچکا ہے اور دیگر معاملات میں اس کے استعمال نہیں ہوسکے گا۔پسماندہ علاقوں میں ترقی نہ کے برابر ہے۔خصوصی طورپر انہوں نے گوونڈی اور مانخورد کی آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں کا ذکر کیا جن کی وجہ سے علاقے میں اوسط عمر 39 ،سال ہوچکی ہے۔
انہوں نے کانگریس کو شدید نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں سائنس کی وجہ سے سماج وادی کو34 نشستیں حاصل ہوئیں اور کانگریس کو بھی اچھی سیٹیں ملی تھیں،لیکن کانگریس کا غرور نہیں ختم ہوتا ہے جوکہ سیکولر ووٹوں کو متاثر کرتی ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ فرقہ پرستی کے خلاف مسلمانوں کے ووٹ اسے ملنے چاہئیے ،لیکن ان کو صرف ووٹ بینک رکھا جاتاہے، ابوعاصم نے کہاکہ حال میں متعدد نوجوان 19 سال کی قید و بند کی صعوبتوں سے رہا ہوئے تو کانگریس کی صدر نے کہاکہ اس معاملہ میں ان کی رہائی کے خلاف اپیل کی جائے گی۔لیکن سادھوی پرگیہ سنگھ اور دیگر کی رہائی پر کانگریس لیڈر شپ خاموش تماشائی بنی رہی۔بلکہ انہیں اس مقدمہ میں بھی اپیل کرناچاہئیے۔کانگریس اپنی طاقت بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے جانے چاہئیے۔اس موقع پر کارگزار صدرقیڈوکیٹ یوسف ابراہانی ،ایم ایل اے رئیس شیخ، جنرل سکریٹری معراج صدیقی ،اقلیتی شعبہ صدر سعید خان اور نائب صدر جاوید جمال الدین اور دیگر عہدیداران موجود رہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں