src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 19 ستمبر، 2025

 حالیہ دنوں میں خصوصاً پنجاب باڑھ کی لپیٹ میں آکر بالکل تباہ ہوچکا ہے۔ ملک کے مختلف خطوں سے مسلمانوں نے امدادی رسد روانہ کیں، بلکہ کثیر تعداد میں مسلم نوجوان خود وہاں پہنچ کر لوگوں کی ہر طرح امداد کرتے رہے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔


سوشل میڈیا پر امدادی گروپس کے انٹرویوز اور بیانات ،  کلپس کی شکل میں خوب گردش کر رہے ہیں۔ ملکی حالات سے دلچسپی کی بنا پر میری نظروں سے بھی بہت سے انٹرویوز گزرے جن میں امداد کرنے والے مسلم نوجوانوں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ لوگ دور دراز علاقوں سے یہاں امداد کرنے کیوں آئے ؟ کس چیز نے آپ کو اس عمل پر آمادہ کیا؟ تو اکثر لوگوں کا جواب ہوتا ہے " مانوتا، انسانیت اور ہماری گنگا جمنی تہذیب "


دعوتی نقطۂ نظر سے یہ جواب قطعاً درست نہیں ہے۔ اصل جواب یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں ہمارے مذہب اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نے اس عمل پر ابھارا ہے اور یہی اصل محرک ہے۔ جب آپ بھلائی کی نسبت اسلام کی طرف کریں گے تو ظاہر ہے ایک بہتر تاثر قائم ہوگا، اور یہی حقیقت بھی ہے کہ اگر ہم کسی کی امداد اور داد رسی کر رہے ہیں تو صرف اس لئے کر رہے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم نے راستے میں پڑا ہوا پتھر ہٹایا اس لئے کہ تاجدارِ مدینہ ﷺ کا فرمان ہے "اماطۃ الاذی عن الطریق صدقۃ "


واضح رہے کہ "انسانیت اور مانوتا" جیسے الفاظ مذہبی تصور کے بغیر محض کھوکھلے ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ انسانیت کی اصل تعلیم دینے والا اسلام ہے۔ اور اسلام سے ہی حقیقی انسانیت پیدا ہوتی ہے، گویا اسلام مبدأ ہے۔ ہاں، جن کے پاس خدا اور رسول ﷺ کا بنایا ہوا اصولِ حیات ہی نہیں اور نہ ہی ان کے مذہب میں وہ تعلیمات موجود ہیں، ظاہر ہے وہ تو اس طرح کی بات کہیں گے ہی۔


بہر کیف، جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بھلائی انسانیت کے ناطے کی ہے تو اس سے کوئی خاص پیغام نہیں جاتا، بلکہ اس میں نہ اسلام کی ترجمانی ہے نہ ہی اسلامی نظریات کی۔ سائل یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح ہمارا مذہب ناقص ہے اسی طرح اسلام بھی۔ لیکن جب آپ بھلائیوں کی نسبت اسلام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات سے جوڑ دیتے ہیں تو سائل کے ذہن میں اسلامی نظریات کے تئیں ایک مثبت پیغام جاتا ہے، جس میں خاموش اور مؤثر دعوت بھی پوشیدہ ہوتی ہے ۔ 

منقول

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages