src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> بچوں کی تربیت اور والدین - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 19 ستمبر، 2025

بچوں کی تربیت اور والدین

 

بچوں کی تربیت اور والدین



ازقلم:- مجاہد محمود خان سر

(معلم، اینگلوں اردو ہائی اسکول پاچورہ، ضلع جلگاؤں)








         صرف یہ کافی نہیں کہ پرورش ہوں تربیت بھی ضروری ہے زندگی کے لیے


 بچے والدین کے ساتھ ہی اپنی زندگی کا آغاز سفر شروع کرتے ہیں اور وہی سے ان کی شخصیت تکمیل تک پہنچتی ہے شب و روز وہ اپنے والدین کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اسی لیے بچے پہلے والدین کی ذمہ داری ہوتےہیں ۔ بچے کی تربیت میں جہاں والدہ کا رول اہم ہے،وہیں والد کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے ۔ موجودہ دور میں تربیت ایک مشکل ترین  ٹاسک بن کر رہ گیا ہے لیکین  معلومات کی فراوانی اور اس ترقیاتی مارڈرن دور سے پہلے غیر محسوس طریقے سے والدین اپنی اپنے بچوں کی اصلاح کیاکرتے تھے۔ لڑکیاں ماؤں سے ،پھوپھی، خالہ، نانی اور دادی کے ساتھ رہ کر تربیت پاتی تھیں اور لڑکے اپنے والد، نانا، دادا اور تایا ، چچا کے ساتھ تربیت پاتے تھے۔ خاندانی نظام مستحکم تھا۔اب زمانہ تیزی سے بدل گیا ہے،بدلتے زمانے کے ساتھ اپنےبچوں کی تربیت میں اہم ترین رول والدین کا ہے، جہاں والدہ کو بچوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنی پڑتی ہیں، وہیں بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے والد محترم کا تعاون بھی نہایت اہم ہے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس تخلیق کردہ  نظام میں انسان کا بچہ والدین کے محفوظ ہاتھوں میں پرورش پاتا ہے ، انسان کے علاوہ دیگر مخلوق کو اپنے بچے کو صرف غذا کی تلاش سکھانا پڑتا ہے، لیکن انسان کا بچہ جوں جوں بڑا ہوتاہے، ہمہ جہت معاملات زندگی کو اپنے بڑوں سے سیکھتا ہے ۔

اس کا جسمانی ، ذہنی ، جذباتی ، سماجی ، حتی کہ سیاسی شعور اور معاشی ارتقاء بھی والدین کی توجہ کا متلاشی ہوتا ہے ۔بچوں کی تربیت میں والد کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ والد کی موجودگی اور توجہ بچوں کی نشوونما، اخلاقی تربیت اور سماجی صلاحیتوں کے فروغ میں اثر انداز ہوتا ہے ۔

بچے چھوٹی عمر سے ہی جو کچھ دیکھتے ہیں وہی ان کی شخصیت پر تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے اسی لیے والدین اپنے بچوں کی پاکیزہ تربیت کا خیال کریں انھیں اسلامی طرز زندگی کے اصول و ضوابط سکھائیں ۔ انھیں  قرآن و احادیث کی تعلیمات سے روشناس کروائیں ان کی دینی اور دنیاوی تعلیم کی فکر کریں کیونکہ بچوں اور والدین کی دنیاو آخرت کی بھلائیاں ان کے اخلاقی اور اچھی شخصیت سازی پر منحصر ہوتی ہیں۔

اسی لیے بدلتے زمانے کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی فکر کرنا نہایت ہی ضروری ہیں۔موجودہ دور کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ بچوں کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر سمجھنا کتنا اہم ہیں اور اسی نقطہ نظر سے پرورش کے ساتھ ساتھ ان تربیت کرنا کتنا ضروری ہے انھیں بدلتے زمانے کے ساتھ اخلاقی دائرے میں رہے کر تکنیکی ،تعلیمی ،دینی اور سماجی پہلوؤں پر عبور حاصل کرنے والا ماحول فراہم کرنا ان کی زندگی کا ایک اہم جز ہے پھر دیکھے اللہ پاک انھیں دارین کی بھلائیاں نصیب کریگا انشاء اللہ ۔

  ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ بچوں کی زہنی ترقی اور اور ذہنی سکون ان کی زندگی میں  مسلسل ہونے والے عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جس سے روحانی تعلق سب سے پہلے والدین سے جوڑا ہوا ہوتاہے تبھی تو بچوں میں وقت کے ساتھ ہونے والی بنیادی تبدیلیاں کچھ حد تک اپنے والدین سے مشابہت رکھتی ہیں ۔محقیقین لکھتے ہیں کہ تاریخ شاہد ہے عظیم والدین کی اولاد بھی عظیم ہوا کرتی ہیں کیونکہ اچھے ماں باپ صرف پرورش ہی نہیں بلکہ اچھی تعلیم و تربیت کو لے کر ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہوتاہے کہ کون سی خصلت اپنے بچوں میں منتقل کرنا ہے۔اور کسی نے بہت گہری بات کہی ہے نہ درخت اپنے پھل سے پہچانے جاتے ہیں ۔

بچوں کی تربیت کو اثر انداز کرنے والے کچھ اہم اپہلوں:


١) تحفظ فراہم کرنا۔

٢) ان کی ضروریات کو سمجھنا۔

٣)بچوں سے محبت و شفقت سے پیش آنا۔

٤) صحبت صالحین میں رہنے کی تلقین کرنا۔

٥)اچھے ماحول کی دستیابی فراہم کرنا۔

٦)بچوں کے ساتھ مثبت گفتگو کرنا۔

٧)بچوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کرنا۔

٨) بدلتے زمانے کے ساتھ ان میں جزبہ جاویدہ پیدا کنا۔

٩) ادب کی تلقین کرنا ۔

١٠)  احساس قربانی و محنت و مشقت کی تلقین کرنا۔

١١) جسمانی نشو نما کے ساتھ ساتھ روحانی نشو نما کے حصول ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages