سونگیر تشدد معاملہ : دھولیہ سیشن عدالت نے مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ معطل کیا
ملزمین کو راحت، جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
دھولیہ25/ ستمبر
مہااشٹر کے دھولیہ ضلع کے سونگیر نامی دہیات میں سال 2014 میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے مقدمہ میں مجسٹریٹ عدالت سے سزا پانے والے 9/ مسلم نوجوانوں کو گذشتہ کل اس وقت بڑی راحت ملی جب دھولیہ سیشن عدالت نے مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کے خلاف داخل اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے ملزمین کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ ملزمین کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء دھولیہ نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر کی۔ 30/ اگست 2025کو چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ دھولیہ کے بی چوگلے نے ملزمین زبیر شیخ عبدالشیخ منیار، شعیب شیخ داؤد شیخ، ابوزر شیخ اعظیم شیخ، سجاد ہارون خان، ناظم عظیم شیخ، شاہد داؤد شیخ، شاہ رخ داؤ شیخ، مجاہد خان فاروق خان اور صدام خان جبار خان قریشی کو تعزیرات ہند کی دفعات 143,147,341,323,504,506,354D, 149کے تحت قصور وار ٹہراتے ہوئے تین ملزمین کو ایک سال اور چھ ملزمین کو چھ ماہ کی سزا سنائی تھی۔مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کے خلاف ملزمین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے دھولیہ سیشن عدالت میں اپیل داخل کی تھی جس پر گذشتہ کل سماعت عمل میں آئی۔ایڈوکیٹ اشفاق شیخ نے سیشن عدالت میں اپیل داخل کی اور دوران بحث عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ قانوناً درست نہیں ہے کیونکہ ایف آئی آر درج کرنے میں ہونے والی تاخیرکی کوئی معقول وجہ بتائی نہیں گئی ہے، معزز مجسٹریٹ نے محض شک کی بنیاد پر ملزمین کو قصور وار ٹہرایا ہے جبکہ حقیقت میں پولس نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایڈوکیٹ اشفاق شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمین ماضی میں کبھی بھی کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے لہذا ملزمین کی جانب سے داخل اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کیاجائے اور مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔ ایڈوکیٹ اشفاق کی بحث کی سماعت کے بعد سیشن جج نے مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ملزمین کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سیشن عدالت نے مجسٹریٹ عدالت کا ریکارڈ بھی طلب کیا۔ خیال رہے کہ ملزمین اگر مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کو متعینہ مدت میں سیشن عدالت میں چیلنج نہیں کرتے تو ملزمین کو جیل میں جانا پڑ تا۔ مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ملزمین اور ان کے اہل خانہ نے دھولیہ جمعیۃ علماء کے ذمہ داران حاجی شوال امین، مشتاق صوفی، مصطفی پپو ملا، حافظ حفظ الرحمن، پرویز شیخ و دیگر سے ملاقا ت کی اور ان سے قانونی امداد طلب کی۔ ملزمین کی معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے قانونی امداد فراہم کی گئی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں