علمائے کرام نے اپنا مذہب سمجھ کر ملک کی آزادی کے لیے قربانی پیش کی :مولانا سید ازہر مدنی
جمعیۃ علماء دھولیہ کے زیر اہتمام اجلاس میں اظہارِ خیال
دھولیہ16؍ اگست : جمعیۃ علماء ضلع دھولیہ کے زیرِ اہتمام سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی یادِ محبانِ وطن کے عنوان پر جنگِ آزادی میں علماء ہند کے کردار پر ایک عظیم الشان اجلاس صدر جمعیۃ علماء ضلع دھولیہ حافظ حفظ الرحمٰن ابن مولانا ابوالعاص صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ حافظ محمد عمیر سراجی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے سماعتوں اور دلوں کو منور فرماکر اجلاس کا آغاز کیا ۔ حافظ محمد سفیان سراجی نے نعت کے خوشبودار اشعار سے محفل کو معطر فرمایا ۔
اس عظیم الشان اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے نبیرۂ شیخ الاسلام، صاحبزادۂ امیر الہند ، حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب ( ناظم شعبۂ اصلاحِ معاشرہ، جمعیۃ علماء ہند) نے شرکت فرمائی ۔ اس عظیم الشان اجلاس کے انعقاد پر مولانا نے جمعیۃ علماء دھولیہ کے تمام اراکین و خادمین کو مبارک باد پیش کی ۔موصوف نے اپنے مخصوص و دل نشیں انداز میں آزادیِ وطن کی تاریخ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ۔ جنگِ آزادی کی ابتداء سے جمعیۃ علماء کے قیام تک کے پس منظر کو اپنے منفرد لب و لہجے میں پیش کرکے مجمع میں سکوت طاری کردیا ۔
مولانا نے فرمایا کہ بہت سارے ممالک نے اپنی اپنی آزادی کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں لیکن ہندوستان کی آزادی کی لڑائی سب سے ہٹ کر ہے ۔ اور اس کا سہرا علمائے کرام کے سر جاتا ہے ۔ علماء نے اپنا مذہب سمجھ کر اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ تقریبا ایک گھنٹہ مولانا نے اکابرین و مجاہدینِ آزادی کی زندگی کو بیان کرکے اخیر میں ہمیں اپنی تاریخ کو یاد رکھنے کی گزارش کی ۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوئے بغیر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ڈھارس بندھائی ۔ دینِ اسلام سے اپنا رشتہ جوڑے رکھنے کی نصیحت فرمائی اور ملک میں امن و بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کا پیغام دیا ۔
مولانا کے خطاب سے قبل قاری خالد صاحب ( سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع ناسک) الحاج مشتاق صوفی صاحب( سکریٹری جمعیۃ علماء دھولیہ) اور مولانا عبدالقیوم قاسمی ( صدر جمعیۃ علماء ضلع ناسک) نے اپنے مخصوص انداز میں بالترتیب جنگِ آزادی میں علماء کی قربانیاں اور جمعیۃ علماء کی خدمات سے عوام کو روشناس کرایا ۔
اس اجلاس میں حافظ عبدالسلام ، مولانا عابد قاسمی ، مولانا شکیل قاسمی، مولانا مبین ملی، مولانا زاہد سراجی، مولانا شعیب حنیف قاسمی، مفتی خالد رحمانی، مولانا اصغر جمیل، مولانا مظفر قاسمی، مفتی اسماعیل ( دھولیہ) ، حافظ اختر ، الحاج محمد یوسف ( پاپا سر ) ، الحاج شوال امین، شیخ پرویز، الحاج مختار( مچھلی والے ) ، الحاج مختار شریف، عبدالمحیط میکانک ، عارف عرش، اعجاز احمد، مسعود احمد ، محمد آصف اور خدام جمعیۃ کے علاوہ عوام الناس کا جم غفیر موجود تھا۔
اجلاس کی نظامت ایاز احمد ایاز صاحب نے اپنے منفرد انداز میں کی اور اخیر میں مہمان مقرر کی دعا پر اس عظیم الشان اجلاس کا اختتام عمل میں آیا ۔اراکین و خادمین جمعیۃ کی انتھک کوششوں سے یہ اجلاس بحسن و خوبی پایہء
تکمیل تک پہنچا ۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں