src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> کا مدرسہ تعلیم النساء پاچورہ میں روح پرور و تاریخی استقبال ۔۔۔۔ - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

اتوار، 24 اگست، 2025

کا مدرسہ تعلیم النساء پاچورہ میں روح پرور و تاریخی استقبال ۔۔۔۔

 پروفیسر ڈاکٹر بانو سرتاج کا مدرسہ تعلیم النساء پاچورہ میں روح پرور و تاریخی استقبال ۔۔۔۔








جلگاؤں (مزمل شیخ) اللہ کے فضل و کرم اور حضور نبی کریم ﷺ کی نسبت و برکت سے پاچورہ کی فضائیں اس وقت ایمان و علم کی خوشبو سے مہک اٹھیں جب اردو و ہندی ادب کی مایہ ناز ادیبہ، ماہرِ تعلیم اور صدرِ جمہوریہ ایوارڈ یافتہ پروفیسر ڈاکٹر بانو سرتاج قاضی المعروف "بانو سرتاج" نے مدرسہ تعلیم النساء، پاچورہ کی رونقوں میں اضافہ فرمایا۔ یہ لمحہ مدرسہ و شہرِ پاچورہ کے لیے یقیناً ایک تاریخ ساز دن تھا۔ مدرسہ تعلیم النساء کے زیر اہتمام الفرقان انگلش میڈیم اسکول، پاچورہ میں ایک پرنور و پراثر استقبالیہ محفل سجائی گئی، جس میں علم و ادب کے شائقین، معلمات و طالبات اور دینی و سماجی شخصیات نے بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ شرکت کی۔ ڈاکٹر بانو سرتاج جن کی علمی و ادبی زندگی ۱۱۰ سے زائد تصنیفات پر محیط ہے، اردو و ہندی ادب کی خدمت میں منفرد مقام رکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری، ادبِ اطفال، مزاح، ناول، ڈرامہ اور تراجم کے میدان میں آپ کی خدمات آفتاب و ماہتاب کی طرح تابناک ہیں۔ متعدد ریاستی و قومی ادارے اور صدرِ جمہوریہ ہند آپ کی ان خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بارہا اعزازات سے نواز چکے ہیں۔

اس روح پرور نشست کی صدارت مولانا مختار احمد ندوی نے فرمائی جبکہ نظامت کی سعادت محمد زید عمری کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے نہایت پراثر انداز میں ڈاکٹر بانو سرتاج کا تعارف کرایا اور ان کی تعلیمی، ادبی اور سماجی خدمات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔اس موقع پر دارالسلام ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی پاچورہ کی جانب سے محترمہ کلیمہ بیگم صالحاتی نے اپنے دستِ مبارک سے ڈاکٹر بانو سرتاج کی خدمت میں لوحِ سپاس پیش کی۔ یہ لمحہ حاضرین کے لیے جذباتی و پرمسرت ثابت ہوا۔ڈاکٹر بانو سرتاج نے اپنی عمرِ رفتہ کے باوجود نہایت پُرجوش اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے زیر تعلیم عالمات، قاریات اور حاضرین کو نصیحت و رہنمائی کے قیمتی موتی عطا کیے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی روشنی، ادب کی چاشنی اور ایمان کی حرارت جھلک رہی تھی۔

پروگرام کا اختتام دعا و تشکر پر ہوا۔ دعا کی گھڑیاں ایسی پُرکیف تھیں کہ ہر دل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے لبریز ہو گیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages