src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

اتوار، 20 اگست، 2023

 




جمعیۃ_علمائے_احمدآباد 

ایک مثالی مفتی کی سرکردگی میں جمعیّت کی مثالی خدمات: 



✍: سمیع اللہ خان



 گزشتہ ہفتے گجرات کی راجدھانی احمدآباد میں دن بھر محترم دوست مفتی عبدالقیوم منصوری کےساتھ گزرا، مفتی عبدالقیوم صاحب اکشر دھام مندر بم بلاسٹ کیس میں بھارتی ایجنسیوں کے ذریعے اس بری طرح پھنسائے گئے تھے کہ انہیں نچلی عدالتوں سے سزائے موت تک سنائی جاچکی تھی ! لیکن بعد میں سچائی اور بہادری کی جیت ہوئی اور مفتی صاحب سپریم۔کورٹ کےذریعے باعزت بری قرار پائے، الحمدللہ۔ احمدآباد میں مفتی صاحب کی زیرِنگرانی چلنے والے جمعیّت  کے کاموں کو قریب سے دیکھا، جن کا مشاہدہ کرنے کے بعد دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ احمدآباد سے لوٹتے ہی اہنے مشاہدات کو جمعیّت کی قابلِ تقلید یونٹ کے طورپر تذکرے میں لاؤں گا. 




 مفتی عبدالقیوم صاحب میرے بہت اچھے اور دل سے قریب رہنے والے دوستوں میں سے ہیں، جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے انقلابی عہد کے فضلاء میں سے ہیں، اکشر دھام مندر بم بلاسٹ کے جھوٹے مقدمے میں عزیمت کی راہوں سے گزر کر آئے ہیں، دورِ آزمائش کےمتعلق ان کی کتاب "گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے " پڑھنے اور سیکھنے جیسی ہے، لگاتار گیارہ سال انہوں نے قیدوبند کی ایسی صعوبتیں برداشت کی ہیں جو ان کی شخصیت کو ایمانی اعتبار سے کندن بناتی ہیں، ایمانی عزم و استقامت نے انہیں بھارت کے اسلاموفوبک اور سَنگھی زندان کی قید سے آزاد کرایا، اور آزادی کےبعد انہوں نے اپنے اندر موجود جذبات، حمیت اورحرّیت کی چنگاری کو مومنین کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کیا، اور وہ ارادہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوا، حالانکہ گیارہ برس تک زندان کی اذیتیں سہنے کےبعد وہ تھک ہار کر بیٹھ سکتے تھے، گلے شکوے کرسکتے تھے، اور اس طرح سے اپنی فکری جمع پونجی برباد کرسکتے تھے، مگر مردانِ کار کو بےکار کے کاموں سے کیا نسبت ہوسکتی ہے، لہذا جیل سے باہر نکلنے کے بعد وہ مزید حوصلوں اور ولولوں کے ساتھ عامۃ المسلمین کی بھلائی کے کاموں میں لگ گئے، یہ اس امر کا ثبوت ہےکہ انہوں نے قیدوبند کا عرصہ ایمانی، نظریاتی اور روحانی ارتقاء کے حصول میں گزارا ہے، جس کا فائدہ ان کی رہائی کے بعد احمدآباد سمیت گجرات کے مسلمانوں کو ہو رہا ہے۔




 رہائی کےبعد انہوں نے جمعیۃ علمائے احمدآباد کو متحرک کیا، اور اس کےتحت بہت سارے کام شروع کیے اور آج وہ کام منظم انداز میں احمدآباد جیسے بڑے شہر میں مسلمانوں کے حق میں منافع بخش دکھائی دے رہا ہے.




 تمام کاموں کا تفصیلی احاطہ تو ممکن نہیں ہے، البتہ ان کےساتھ اٹھتے بیٹھتے جن کاموں کا مشاہدہ کیا اور ان کے دیکھنے سے طبیعت شاد ہوئی، ان کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں. 




 ان کی سربراہی میں شہر احمدآباد میں جمعیّت کے سات محلہ کلنک چلتے ہیں، جن میں غریبوں کو صرف بیس روپے میں علاج ملتا ہے، ہزاروں انسان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔



 جمعیّت کی جانب سے ایمبولینس سروس بھی شروع کی گئی ہے، کئی ایمبولینس چاق و چوبند نظر بھی آئیں۔




 ایک کام جو بہت زیادہ اچھا اور انوکھا نظر آیا وہ جمعیّت کی جانب سے غریبوں کے لیے "ٹفن اسکیم" ہے، عام طور پر ضرورتمندوں کو ماہانہ مالی امداد کے متعلق تو سنتے آئے ہیں، لیکن ایسے غریب اور ضعیف لوگ جو اپنے لئے کھانے کا انتظام نہیں کرسکتے ہیں، ان کی تحقیق کرکے روزانہ کھانا پکوانا اور ٹفن میں بھرکر ان کے گھروں تک پہنچانا، یہ اپنی نوعیت کی منفرد خدمتِ خلق ہے جو مشاہدے میں آئی، جمعیّتِ احمدآباد اور مفتی عبدالقیوم صاحب کی ٹیم کے ذریعے پہلی بار یہ مفید کام سامنے آیا ہے،  یہ رضاکار روزانہ بےشمار بےسہارا بوڑھوں اور بوڑھیوں تک ٹفن میں کھانا پہنچاتے ہیں، اور اس کے لیے مستقل اسٹاف ہے.




 تیسرا کام جس کا مشاہدہ ہوا وہ صفہ انگلش میڈیم اسکول ہے، اس اسکول کا مشاہدہ نہ صرف مسرت افزا بلکہ مستقبل کے لیے امید افزا بھی ہے، اپنے لوگوں کے ہاتھوں میں انگلش میڈیم اسکول کا نظام دینی ماحول اور اسلامی شعائر کی تربیت کے ساتھ دیکھ کر جی خوش ہوا، مفتی صاحب کی معیت مییں اسکول کے طلبا و طالبات کے مظاہرے دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی، معلمین و معلمات اور پرنسپل سے مل کر اچھا لگا، اس اسکولی سسٹم پر تفصیلی تبصرہ پھر کبھی کروں گا، سردست اتنا سمجھیے کہ اگر موجودہ بھارت میں مسلمانوں کو اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو انہیں ایسے ہی اسکول گاؤں گاؤں قائم کرنے ہوں گے، جہاں وہ اپنے نونہالوں کو دینی ماحول میں اعلٰی تعلیم دلا سکیں، جہاں ان کے بچوں کو حجاب و نماز سے ممانعت کا سامنا نہ کرنا پڑے، 



صفہ انگلش میڈیم اسکول مفتی عبدالقیوم صاحب اور ان کی پوری ٹیم کے لیے ذخیرہء آخرت ثابت ہو، آمین.




 اس کےعلاوہ مفتی صاحب نے اپنی لیگل سیل/قانونی امداد کمیٹی سے ملوایا، جسے دیکھ کر کافی حوصلہ ملا۔



کئی دنوں بعد ملاقات ہوئی تھی اس لیے دن بھر گفت وشنید کےعلاوہ ہم ان کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے احمدآباد میں موجود مسلمانوں کے تاریخی آثار کا بھی جائزہ لیتے رہے، جو کام اس شہر میں مفتی عبدالقیوم کررہے ہیں، وہ بےشمار ہیں.

 



 یہ بتلانا مقصود ہےکہ اگر ہر شہر میں جمعیّت کو مفتی عبدالقیوم جیسے افراد میسر آجائیں یا مفتی عبدالقیوم جیسے جری اور بابصیرت علمائے کرام کو مواقع دیے جائیں تو ملک میں مسلمانوں کی نمائندگی مفید و باوقار سطح پر نظر آسکتی ہے، 

 



بےلوث محنت اور خلوص کےعلاوہ مفتی عبدالقیوم کی بنیادی خاصیت ان کی جرات مندی، شجاعت، بےخوفی اور خشیتِ الٰہی ہے، وہ سرکاری اور سیاسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر کام کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ بھارت کے گھٹاٹوپ اندھیارے میں بھی شہر احمدآباد میں انہوں نے مسلمانوں کی ایسی باوقار ٹیم کی تنظیم کاری کا فریضہ انجام دیا ہے.



samiullahkhanofficial97@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages