اوچھی اور گھٹیا سیاست کی عمدہ مثال
شب برآت جیسے مقدس اور بابرکت موقع کو اپنی گندی سیاست کے لئے استعمال کرنا چہ معنی دارد ؟
قبرستان کے گیٹ میں آکسیجن کی کمی ہونے کی بات کرنے والے آکسیجن سلینڈر ضرور لے جاٸیں ، لیکن پہلے اپنے ابو اور امی جان کے پاس دھرنا دیں
مالیگاٶں (6 مارچ) ۔ مسجدوں اور میناروں کے شہر سے معروف ہمارا مالیگاٶں ان دنوں اوچھی سیاست کا مرکز بنتا جارہا ہے ۔ اپنی چوریوں اور بدعنوانی اور گھپلے بازی کو چھپانے کے لیۓ سابق ایم ایل اے اور راشٹر وادی کانگریس کے صدر شیخ آصف نت نٸے پاکھنڈ کررہے ہیں ۔ مالیگاٶں کو سنگھاٸی بنانے کادعوی کرنے والے جن کو شہر مالیگاٶں کی عوام نے چمپیٸن چور کا خطاب دیا ہے اپنے وقت میں فلاٸی اوور مکمل نہیں کرواسکے نہ ہی عوام کے کروڑوں روپیٶں سے تعمیر ہل اسٹیشن کی حفاظت کرسکے نہ ہی موسم ندی چوپاٹی کو پانی میں بہنے سے بچاسکے ۔ انہوں نے صرف اور صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کیا ہے اور ہمیشہ گالے بازی ، کمیشن خوری پر مبنی کاموں کی سرپرستی کی ۔
ابھی ان دنوں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر شیخ آصف قبرستان کی زمین کے نام پر جو پاکھنڈ پھیلاٸے ہوٸے ہیں اور قبرستان کو بچانے کا مدعا اٹھا کر مختلف سماجی و ملی تنظیموں کے در کی خاک چھان رہے ہیں ، اسی قبرستان کی زمین سے متعلق عوام کو یاد ہے کہ انکے ابا محترم اور والدہ محترمہ نے میٸر رہ کر بھی اس قبرستان کی زمین کی رقم زمین مالک کو ادا نہیں کی ۔ یہاں تک کہ *مجلس اتحادالمسلمین* کے گٹ نیتا الحاج ڈاکٹر *خالد پرویز* نے اسی قبرستان کی زمین پر بیٹھ کر آن لاٸن مہاسبھا میں شرکت کی اور اور بجٹ میں قبرستان کی زمین کی رقم کو شامل نہ کرنے پر بجٹ کی کاپی پھاڑ کر اپنا احتجاج درج کروایا ۔
آج شیخ آصف اور ان کے رشتہ داروں کے کالے کارناموں اور چمپیٸن چوریوں کو *مجلس اتحادالمسلمین* کے ضلعی صدر *عبدالمالک سابق میٸر* یکے بعد دیگرے طشت از بام کرتے جارہے ہیں تو شیخ آصف کو اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی محسوس ہورہی ہے ۔ اور وہ بوکھلاہٹ میں مبارک ایام کا استعمال اپنی گھٹیا سیاست کے لٸے کررہے ہیں ۔ شب برآت جیسی فضیلت والی رات کے موقع پر بڑا قبرستان گیٹ پر دھرنا دینے کا اعلان کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ ہم اس عوام کو اس بابرکت رات میں نوافل ، تلاوت ، اور عبادت سے دور رکھنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں ۔
شہر کی عوام کا شیخ آصف سے سیدھا سوال ہے کہ اگر انکو قبرستان کی زمین کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ اپنے ابا اور والدہ کے خلاف کب دھرنا دیں گے ؟ کب ان سے یہ سوال کریں گے کہ ابو جان ، امی جان آپ لوگ جب میٸر تھے تو اُس قبرستان کی زمین مالک کو کیوں نہیں رقم ادا کی ؟ کیوں نہیں وہاں وال کمپاٶنڈ تعمیر کروایا ؟ کیوں نہیں وہاں جنازہ ہال کی تعمیر کرکے اس کو قوم کے لیۓ وقف کروایا ؟؟
اگر شیخ آصف میں ہمت اور تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو سب سے پہلے اپنے والد محترم شیخ رشید صاحب اور والدہ محترمہ طاہرہ شیخ سے سوال کرے اور اسکے بعد دوسرا چھچھند کرے ۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں