src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> جلگاؤں میں اولاد نہ ہونے کا غم اور سسرالیوں کے ستم سے تنگ آکر 22؍ سالہ ناظمین پنجاری نے کی خودکشی : پولس نے کیا سسر کے خلاف مقدمہ درج ۔ - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 8 جولائی، 2022

جلگاؤں میں اولاد نہ ہونے کا غم اور سسرالیوں کے ستم سے تنگ آکر 22؍ سالہ ناظمین پنجاری نے کی خودکشی : پولس نے کیا سسر کے خلاف مقدمہ درج ۔

 



جلگاؤں میں اولاد نہ ہونے کا غم اور سسرالیوں کے ستم سے تنگ آکر 22؍ سالہ ناظمین پنجاری نے کی خودکشی : پولس نے کیا سسر کے خلاف مقدمہ درج ۔



جلگاؤں (نامہ نگار ) اولاد ایک عورت کو مکمل کرتی ہے.  شادی کے ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ماں بننا.  حالانکہ اس پورے دور میں عورت درد کے ایک گہرے سمندر کو عبور کرتی ہیں اور موت کی گود میں جاکر ایک زندگی کو جنم دیتی ہے.  اس کے باوجود وہ ہربار ماں بننے کو ترجیح دیتی ہے مگر کچھ بدنصیب خواتین اللہ کی اس نعمت سے محروم رہتی ہیں.  جس کی وجہ سے کبھی اس کے سسرال والے اس پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑتے ہیں. جس کی وجہ سے وہ سخت دباؤ میں آکر خود کو موت کے حوالے کردیتی ہے. ایسا خودکشی کا ایک واقعہ جلگاؤں شہر کے کھنڈراؤ نگر علاقے میں پیش آیا. جہاں جمعرات کی شام تقریباً 7 بجے ایک 22 سالہ خاتون نے خودکشی کرلی۔ اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق شادی کے بعد خاتون کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ اسی لئے اسے سسرال والوں کی جانب سے  جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا.  سسرال والوں کے ظلم جبر سے خودکشی پر مجبور ہوکر خاتون نے گھر میں پھانسی کا پھندہ لگاکر خودکشی کرلی.  خودکشی کے اس  معاملے میں بروز جمعہ۸ ؍جولائی کو رامانند نگر پولس اسٹیشن میں اس کے سسر کے خلاف خودکشی پر مجبور کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ناظمین فیروز پنجاری (22)  خاتون خانہ نے جمعرات کی شام تقریباً 7 بجے کھنڈراؤ نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ لاش کوضلع میڈیکل کالج و اسپتال پہنچایا گیا۔ جمعرات کو لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔ جمعہ کی صبح خاتون کے رشتہ دار بڑی تعداد میں سرکاری اسپتال پہنچے اور ناظمین کے سسر ال والوں کےخلاف مبینہ طور پر خودکشی کے لئے اکسانے کا الزام لگانے لگیں. متوفی کے لواحقین نے سخت مشتعل تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ جب تک سسرال والوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا لاش تحویل میں نہیں لیں گے۔ ناظمین کے بھائی التمش غفار پنجاری نے رامانند نگر پولیس اسٹیشن میں ناظمین کے سیرالیوں کے خلاف شکایت درج کرائی ۔ 


ناظمین کی شادی 2019 میں کھنڈراؤ قصبے کے فیروز پنجاری سے ہوئی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد اس کے سسرال والوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ناظمین کی گود سونی تھی۔ اس کا گھر بچوں کی کلکاریوں سے محروم تھا. ایسے میں اس کے شوہر فیروز، ساس طائرہ بی اور سسر باسط پنجاری نے اس کے ساتھ گالی گلوچ اور مار پیٹ شروع کر دی تھی۔ اس تعلق سے ناظمین نے اپنے والدین کو بتایاتھا۔ اس کے والد غفار پنجاری نے شہر کے ایک ڈاکٹر سے اس کا علاج شروع کیا تھا۔ تاہم اس کےبعد بھی سسر ال والوں کی جسمانی اور ذہنی اذیت بہت بڑھ گئی تھی۔7؍ جولائی کو دونوں میاں بیوی میں جھگڑا ہورہا تھا تب ناظمین کے بھائی ابو ذر پنجاری نے فون پر لڑائی جھگڑے کی آواز سنی تھی۔ اس کے بعد  شام 7 بجے کے قریب ناظمین نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ جمعہ کی دوپہر رامانند نگر پولیس اسٹیشن میں شوہر، ساس اور سسر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 306 اور 498 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages