اب دہلی اور پنجاب میں بھی ہوسکتا ہے سیاسی گھمسان ،
کیا سیکیوریٹی ایجنسیاں بنیں گی ہتھیار؟
مہاراشٹر اور مرکزی حکومت کے درمیان کافی عرصے سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں حکومتوں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں سیکیوریٹی اور تفتیشی ایجنسیوں کو دوسرے خیمے کے لیڈروں کے پیچھے لگا دیا اور ان کے ساتھ زبردست زیادتی کی۔
انہی خطوط پر دہلی اور پنجاب کے درمیان سیاست کی ایک نئی جنگ شروع ہو گئی ہے جہاں دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے لیڈروں کے خلاف ایجنسیوں کا زبردست استعمال کر سکتی ہیں۔ اس سے پہلے ترنمول کانگریس کے لیڈروں پر مرکزی ایجنسیوں کی کاروائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال، منیش سیسودیا، پنکج گپتا، سومناتھ بھارتی اور درجنوں دیگر لیڈران کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ مختلف ایجنسیوں کی ٹیموں نے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دفتر اور ان کی رہائش گاہ پر کئی بار چھاپے مارے۔ کئی لیڈروں کے خلاف مختلف معاملات میں مقدمات درج کیے گئے۔
تازہ ترین معاملے میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام واقعات کے بعد بھی اب تک کسی بڑے لیڈر پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ عام آدمی پارٹی اسے مسلسل انتقام کی سیاست قرار دے رہی ہے۔
چونکہ دہلی کی پولیس مرکزی حکومت کے تحت آتی ہے، اس لیے عام آدمی پارٹی کی حکومت چاہ کر بھی بی جے پی لیڈران کو اس کے 'کھیل' میں اس کی ہی طرح کوئی جواب نہیں دے سکی۔ لیکن جیسے ہی عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں مطلق اکثریت کی حکومت بنائی، اور پنجاب پولیس پر اس کا مکمل کنٹرول ہوآ، پارٹی نے اپنی چالیں کھیلنا شروع کر دیں۔ پنجاب میں حکومت بننے کو بھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا ہے اور اس دوران بی جے پی کے دو لیڈروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس نے دہلی بی جے پی کے ترجمان تجندر پال سنگھ بگا کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پولیس نے بگا پر اروند کیجریوال پر اپنی ٹویٹ تقریروں کے ذریعے قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں