تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے پروپیگنڈہ پر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر تیز سماعت کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل
نئی دہلی، 25 جنوری : جمعیۃ علماء ہندنے جھوٹ اور نفرت انگیزی کے سہارے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں دائر عرضی کی جلد از جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔
جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سے اس اہم معاملے کی سماعت جلداز جلد کئے جانے کی درخواست کی ہے۔ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کے ذریعہ داخل کردہ درخواست میں درج ہے کہ 13 اپریل 2020 میں پٹیشن داخل ہونے کے بعد سے اس معاملے کی اب تک گیارہ سماعتیں ہوچکی ہیں جس کی آخری سماعت 2 ستمبر 2021 میں ہوئی ہے اور عدالت کے حکم پر یونین آف انڈیا نے اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ اسی طرح براڈ کاسٹنگ آرگنائزیشن اور خبروں کو ریگولرائز کرنیوالے داروں نے بھی اپنا جواب داخل کردیا ہے ساتھ ہی ساتھ ملک کی مختلف ہائی کورٹ میں زیر سماعت عرضداشتوں کو بھی عدالت کے حکم پر یکجا کیا جاچکا ہے۔
عرضداشت میں مزید مزید لکھا گیا ہیکہ یہ ایک اہم معاملہ ہے جو عوام سے براہ راست جڑا ہوا ہے اور عوام سے جڑے ہونے کی وجہ سے اس کی جلد از جلد سماعت ہونے سے انصاف ہوگا۔ عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں فیک نیوز اور نفرت پر مبنی نیوز چینلوں کی وجہ سے امن میں خلل پڑسکتا ہے لہذا عدالت کو خصوصی حکم دے کر ایسی خبروں کو کنٹرول کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور نفرت آمیز خبریں نشر کررہے ہیں لہذا موجودہ پٹیشن پر جلد از جلد سماعت ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں