src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> شیخ ارسلان معمہ حل , لیکن ننھے بچوں پر سوالیہ نشان - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

بدھ، 9 جون، 2021

شیخ ارسلان معمہ حل , لیکن ننھے بچوں پر سوالیہ نشان

 


ارسلان


شیخ ارسلان معمہ حل

لیکن ننھے بچوں پر سوالیہ نشان


🔖  شگفتہ سبحانی

(مالیگاؤں) 

پولس قاتل فیضان اختر کو لے جاتےہوئے


خبروں کے مطابق، معصوم شیخ ارسلان کا قاتل قانون کی گرفت میں ہے 
لیکن ارسلان کے قتل کی وجوہات اتنی سنگین ہیں جس نے بھرے پرے معاشرے میں ہنستے کھیلتے ننھے بچوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ہیں 
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وقت رہتے بچوں کو ان کی حفاظتی تدابیر کے بارے میں کُھل کر آگاہی دیں، معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم اجنبی سے بچوں کو دور رہنے کے مشورے دیتے ہیں لیکن یہ سوال کسی کے ذہن میں نہیں آتا کہ زیادتی کرنے والا، بچوں کو نشانہ بنانے والے ان کے آس پاس کے شناسے بھی ہوسکتے ہیں 
آئیے روشنی ڈالتے ہیں کہ بچوں کی حفاظت کیسے ہو 

Child Abuse prevention act
کیا ہے
What is child Abuse?
بچوں کو ہر اس قسم کے جرم کے بارے میں آگاہی دیں جہاں وہ خود کو محفوظ کرتے ہوۓ والدین تک اپنی بات پہنچائیں 
ہم اسکول میں بچوں کو Good touch  اور bad touch کے بارے میں سکھاتے ہیں اسی طرح انہیں گھر میں بتایا جاۓ کہ safe touch اور unsafe touch کیا ہے 
ہر اس قسم کا ٹچ جسے بچہ غیر محفوظ تصور کرے، منع کرے، مخالفت کرے یا کنفیوز رہے یا اسے سمجھ میں نا آۓ کہ یہ کیا ہورہا ہے وہ ٹچ بچے کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے مضر ہے، بچے کو ڈرا کر، دھمکا کر، کسی کام پر راضی کرنا یا بچے کی پرسنل boundries کو کراس کرنا انہیں مضر تصاویر دکھانا، خراب باتیں کرنا ان کے لباس سے چھیڑ چھاڑ کرنا یہ سب قانونی جرم ہیں اور Child abuse میں شمار ہوتے ہیں 

مجرم کسے نشانہ بناتے ہیں 
ورلڈ سروے کے مطابق، بھارت پہلے نمبر پر بچوں کے ساتھ ہونی والی زیادتی میں شمار کیا جاتا ہے اس کے بعد پاکستان اور پھر بنگلہ دیش. 
لاک ڈاؤن میں تقریبا 92000کال صرف بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے تحت ریکارڈ کی گئیں ہیں جو اب تک کا سب سے بڑا آکڑا ہے 
 مجرم تین قسم کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں 
1)  جن کے گھر میں گھریلو تنازعہ ہو ، غربت، والدین میں کشیدگی یا طلاق کی نوبت کا پایا جانا 

2)بچہ معذور ہونا، / ڈرپوک یا کمزور بچے 
 3)گھر میں نشہ کرنے والے افراد ہونا  

سماج میں اکثریت لڑکیوں کی حفاظت کیلئے محتاط رہتی ہے جبکہ جنسی زیادتی کا شکار لڑکے یا لڑکی دونوں کو ہونا پڑسکتا ہے 
عموماً چھوٹی عمر کے لڑکوں کو یہ سب آگاہی نہیں دی جاتی جبکہ بچے کسی بھی نسل، فرقہ یا قوم کے ہوں، سماج کو تمام بچوں کی فکر کیلئے یکساں حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے 

Who are perpetrators (abuser/مجرم) 
مجرم کون ہوتے ہیں 
مجرم ہمیشہ اجنبی نہیں ہوتے کرائم فائلوں میں اکثریت مجرم اور ذہنی مریض  بہت ملنسار، خوش مزاج، کھلتی رنگت والے، معصوم نظر آنے والے اور بچوں کے ساتھ رہنے والے انہیں ٹافیاں دینے والے ، ان کے ساتھ دوستی گانٹھنے والے اور بچے کے ساتھ پیش پیش رہنے والے افراد پاۓ گئے جن پر یقین کرانا پورے سماج کیلئے ناممکن قرار پایا گیا تھا، اجنبی سے زیادہ اس بات پر توجہ دیں کہ خاندان میں بھی یا گھر کے باہر سے بھی بچے پر کس نے نظر رکھی ہے اور کون بچے کے قریب ہونے کی کوششیں کررہا ہے 
ہم ہر ایک کی نیت پر شک نہیں کرسکتے لیکن مجرم اشارہ ضرور دیتا ہے وہ ایسی حرکت ضرور کرتا ہے جسے اکثریت ان دیکھا یا وہم سمجھتی ہے 

ہم اور آپ کیا کرسکتے ہیں
بچے ہر گھر کی زینت ہیں
ان کی حفاظت کیلئے درج ذیل اقدامات ایکسپرٹس کی آراء سے قلمبند کئے جارہے
▪️بچوں کے ہر جاننے والے پر کڑی نظر رکھیں
▪️ روزانہ بچوں سے سارے دن کی معلومات لیں خاص کر وہ کن افراد سے ملتے ہیں
▪️مثال کے طور پر اپنا نمونہ دیں آج میں فلاں فلاں دوست  کے ساتھ وہاں گیا تھا /سہیلی کے ساتھ وہاں  گئی تھی وہاں دعوت تھی اور یہ یہ ہوا
▪️بچہ کسی سے ملنے سے کتراۓڈر جاۓ یا بار بار منع کرے تو وہ ایک اشارہ ہوسکتا ہے بچے کو قریب کر کے وجوہات تلاشیں کہ بچہ فلاں سے اتنا ڈرتا کیوں ہے
▪️بچے کو سیف ٹچ کے بارے میں بتائیں
▪️کوئی زبردستی بچے کو گود میں بٹھاۓ، گدگدی کرے یا بچے کا بار بار فوٹو لے تو اسے سختی سے منع کریں
▪️بچے کے ساتھ اس کے محافظ رکھیں، اسے دوستوں سے گھلنے ملنے دیں اور بچے کے دوستوں سے وقتا فوقتا بچے کے برتاؤ کے بارے میں سوالات کرتے رہیں
▪️بچے کے فیصلے کو Respect کریں اور اس کا اعتماد جیتیں. اور اس کی باتیں دھیان سے سنیں

▪️بچہ کوئی انہونی بات کہے، کوئی انہونا ایکشن کرے تو اوور ری ایکٹ کر کے ڈانٹ ڈپٹ نا کریں بلکہ محتاط ہوجائیں، وجہ جاننے کی کوشش کریں کہ بچے کو ایسی بات کس نے سکھائی
▪️بچے ننھے ہوتے ہیں، وہ الٹے سیدھے سوال کریں تو ڈانٹنے کی بجاۓ ان کے سوالوں کے جواب تلاش کریں وہ ہم سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے
▪️بچے کا برتاؤ تبدیل ہو
وہ چپ چپ رہے، ڈرے، یا بھوک مرجاۓ یا بار بار کسی قسم کا انفیکشن ہو تو اسے کاؤنسلر سے رابطہ کروائیں

What is POSCO (2012) Law
 Protection of children from sexual offence Act

بچوں کے استحصال پر خاموش نا رہیں بلکہ سماج کا کوئی بھی فرد اس ایکٹ کے تحت کیس درج کروا سکتا ہے
ہمیشہ بچوں کا سپورٹ کریں اور اس قسم کی حرکتیں کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نا برتی جاۓ
بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کیلئے
1098 پر کال کریں
یا ہیلپ لائن 09868235077 NCPCR پر رابطہ کریں
www.ncpcr.gov.in


دعاگو ہوں اللہ رب العزت ہر گھر کے ہنستے کھیلتے بچوں کو سدا اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور ہر شر فتنہ اور برائی سے محفوظ رکھے. آمین

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages