src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> این آر سی کی بلی پھر تھیلے سے باہر!! - مہاراشٹر نامہ

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 4 جون، 2021

این آر سی کی بلی پھر تھیلے سے باہر!!

 

 این آر سی کی بلی پھر

 تھیلے سے باہر!! 


خیال اثر 

بھاجپا نے اپنے سات سالہ اقتدار میں وہ کھیل تماشے دکھائے ہیں کہ بڑے سے بڑا مداری بھی کسی شتر مرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں چھپا لے. جب جب ہندوستان پر کڑا وقت آیا بھاجپائی حکومت نے اپنی زعفرانی زنبیل سے کوئی نہ کوئی جادوئی کھلونا نکال لیا. این آر سی, این آر پی, سی اے اے جیسے شہریت ترمیمی قوانین کی مخالفت میں ہندوستان کے کوچہ کوچہ قریہ قریہ میں شاہین باغ وجود میں آئے اور احتجاج شدید ترین ہوتا گیا. بچے, جوان, بوڑھوں اور اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے جا بجا پھیلے ہوئے شاہین باغوں کو اپنے احتجاج سے تقویت پہنچائی تو ارباب حکومت نے کورونا کا فتنہ لا کھڑا کردیا. حکومت نے شوشل دوری کے نام پر تمام شاہین باغوں کو ان دیو مالائی جانور ڈائنا ساروں کی طرح صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا لیکن شاہین باغ کے نام پر احتجاج پر آمادہ ضعیف العمر بلقیس دادای کی کمزور و ناتواں شبیہ آج بھی نگاہوں میں لرزیدہ ہے. شہلا رشید اور عمر خالد جیسوں کے باغیانہ تیور آج بھی ارباب حکومت کو لرزہ براندام کئے ہوئے ہیں. شاہین باغوں کا احتجاج تو بھاجپا حکومت نے کورونا کے بہانے ختم کردیا تھا لیکن اسی دوران مودی و امت شاہ نے کسان مخالف زرعی قوانین نافذ کرتے ہوئے کھیتوں, کھلیانوں میں اجناس کی بجائے بھوک اور افلاس کی کاشت کاری پر کسانوں کو مجبور کردیا. مشہور ہے کہ جب جب ہندوستان پر کوئی حملہ آور ہوا ہے کسانوں  نے اپنے آہنی ہلوں اور دیگر اوزاروں کو پگھلا کر تلواریں ڈھالی ہیں اور ان کسانوں کی ان تیز دھار تلواروں کے مقابل کوئی بھی آتشیں  ہتھیار ٹک نہیں پایا ہے. بھاجپا حکومت نے برہم کسانوں کی گزر گاہوں پر کیلیں بچھا کر ان کے احتجاج کا راستہ مسدود کرنا چاہا لیکن کسان طبقہ ہے کہ وہ درانہ وار راجدھانی دہلی کا محاصرہ کرنے پر آمادہ ہے حالانکہ ان دنوں کورونا کی دوسری لہر نے تمام تر سرگرمیوں کو پس پشت ڈال کر رکھ دیا ہے. کسانوں کا احتجاج دوبارہ رنگ لانے کے قریب ہے اور شاید اسی لئے بھاجپا حکومت اپنی زنبیل سے شہریت تریمی ایکٹ نامی دوسرا سحر پھونکنے کی تیاریاں کررہی ہے. بھاجپا حکومت چاہتی ہے کہ این آر سی کی آڑ میں کسانوں کا احتجاج دب کر رہ جائے لیکن حکومت اس غلط فہمی میں ہے کہ اس نے جس طرح کورونا کے بہانے ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے شاہین باغوں کو داب دیا تھا بالکل اسی طرز پر کسان آندولن کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے ملبے تلے دفن کردے گا. بلقیس دادای, شہلا رشید, عمر خالد کے احتجاجی اقدامات کو ماند کرنے کی جتنی بھی کوشش بھاجپا حکومت نے کی تھی اس کی وہ ساری تدبیریں اور حکمت عملیاں ناکام ثابت ہوئیں تھیں. کسانوں کا احتجاج ختم کرنے میں بھی بھاجپا حکومت ناکام رہی ہے. آج جب موجود سرکار نے دوبارہ این آر سی کا شوشہ چھوڑ دیا ہے تو حکومت میں شامل وزراء کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے. انھیں ہندوستانی عوام کو یہ بتانا ہی ہوگا کہ ان کے آباء و اجداد جو "آرین "کہلاتے تھے وہ کہاں سے آئے تھے. وہ کس ملک کے باسی تھے. بابری مسجد کے شہادت کے اہم ذمہ دار اڈوانی جی رتھ یاترا والے کی جائے پیدائش صوبہ پاکستان سندھ ہے  بھاجپا حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ لال کرشن اڈوانی اور ان کی آل اولاد سے ہندوستانی شہری ہونے کے ثبوت طلب کرے پھر اس کے بعد عام شہریان کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ان کے شہری حقوق پر شب خون مارنے کی کوشش کرے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages