مانسون کی دستک سےممبئی
ہوئی جل تھل
ادھو ٹھاکرے نے بارش کا جائزہ لیا ، انتظامیہ کو حالات معمول پر لانے کی ہدایت دی
ممبئی میں موسلا دھار بارش کے سبب شہر کی سڑکیں تالاب بن چکی ہیں۔ لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے خود ممبئی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو ٹریفک کو آسانی سے شروع کرنے اور جلد سے جلد پانی نکالنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی مانسون کی آمد کا اعلان کیا تھا اور کچھ دن موسلادھار بارش کا انتباہ بھی دیا تھا۔ موسلا دھار بارش کے امکان کے پیش نظر وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے دو روز قبل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور تمام ایجنسیوں کو تیار رہنے اور چوکس رہنے کا حکم دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کوویڈ سمیت دوسرے مریضوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اس معاملے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
لوگوں کے گھروں ، ریلوے پٹریوں اور سڑکوں پر جمع ہونے والا یہ پانی ایک بار پھر بی ایم سی کی تمام تیاریوں کو بے نقاب کرتا دکھائی دیا ہے۔ یہ نظارہ تب ہے جب بارش اور مدوجذر کا سنگم نہیں ہے ۔ اگر کہیں ملن ہوگیا تو ممبئی شہر کی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مقامی انتظامیہ کو یہ معلوم نہیں ہے۔ ممبئی میں نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونا بی ایم سی کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ اس بار بھی ، بی ایم سی نے شہر کے بڑے نالوں کو مکمل طور پر صاف کرنے کا دعوی کیا تھا ، لیکن پہلی پخ بارش نے بتا دیا ہے کہ بی ایم سی نے کتنا کام کیا ہے اور کتنا نہیں ۔
سانتا کروز ، اندھیری سب وے ، دادر ٹی ٹی ، گرانٹ روڑ ، سائن گاندھی مارکیٹ ، ملن سب وے ، سائن ریلوے اسٹیشن کی پٹریوں کے علاوہ ، ممبئی کے تمام نشیبی علاقے زیرآب ہوگئے ہیں۔ ممبئی میں لگاتار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جی ہاں ، مانسون نے ممبئی میں زبردست دستک دی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ممبئی میں بہت تیز بارش کے آثار ہے۔ پہلی بارش میں ممبئی ایک تالاب میں تبدیل ہوگئی۔ جہاں ملک کی مالی راجدھانی ممبئی کی سڑکوں پر ہر جگہ پانی کی حکمرانی نظر آرہی ہے۔ بارش کا پانی بغیر اجازت کے لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں