src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> بھیونڈی میں شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیرآب ، نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ‏ - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعرات، 10 جون، 2021

بھیونڈی میں شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیرآب ، نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ‏


بھیونڈی میں شدید بارش کی

 وجہ سے نشیبی علاقے زیرآب ، 

نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے 

 سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ، کئی

 دکانوں اور گھروں میں بھرا بارش کا

 پانی ، 

 



میونسپل کارپوریشن کے نالہ صفائی کی کھلی پول ، 60 فیصد نالہ صفائی کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ 


            (خصوصی رپورٹ)

 بھیونڈی:  کل سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے  بھیونڈی شہر سمیت دیہی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ شہر کے نشیبی علاقے زیرآب ہوگئے تھے۔ نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا تھا۔  بنگال پورہ سمیت شہر کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں پر اتنا  پانی بھر گیا تھا کہ سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ جس میں چھوٹے بچے بارش سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔  بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے متعدد گھروں ، دکانوں اور کارخانوں میں پانی بھر گیا تھا جس کی وجہ سے زندگی جیسے تھم سی گئی تھی۔  یہاں تک کہ راجیو گاندھی فلائی اوور کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فلائی اوور پر بھی پانی جمع ہوگیا تھا۔ حالانکہ دوپہر کے بعد بارش بند ہونے کی وجہ سے  بھرا ہوا پانی نکل گیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ شدید بارش کے باعث شہر کے متعدد علاقوں کی بجلی کی سپلائی منقطع کردی گئی تھی۔ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے 60 فیصد نالے کی صفائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن شہر میں جمع ہوئے پانی نے ان کے دعوے کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔

 شہر کے کلیان ناکہ ، شاستری نگر ، آنند ہوٹل کے پیچھے کا نالہ ، غیبی نگر ، تین بتی ، شیواجی نگر ، کنیری ، کملا ہوٹل ، سٹیزن ہاسپٹل مین روڈ ، نظام پورہ ، نارپولی ، پدما نگر ، ورال دیوی ہاسپٹل مین روڈ ، بھاجی مارکیٹ ، نالا پار ، نذرانہ کمپاؤنڈ سمیت شہر کے نشیبی علاقے زیرآب ہوگئے تھے۔  متعدد مکانات اور دکانوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کو بالخصوص دکانداروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تین بتی واقع بھاجی مارکیٹ میں سبزی فروشوں کی سبزیوں سمیت دیگر سامان پانی میں بہہ گیا۔ سبزی دکاندار سبزیوں کو بہتا دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔ مہاڈا کالونی ، عید گاہ روڈ سمیت کامواری ندی کے کنارے آباد لوگوں کے مکانات  میں پانی بھر گیا تھا۔ بارش کا پانی سڑکوں پر بہنے کی وجہ سے کلیان روڈ ، انجورفاٹا ، ونجارپٹی ناکا ، نذرانہ سرکل ، رانجنولی بائی پاس ، مانکولی ناکا ، واڑہ روڈ اور ندی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ بارش کے دوران ٹریفک پولیس نے میونسپل ملازمین کے ذریعے فلائی اوور کی صفائی کرا کر ٹریفک کو بہ آسانی دوبارہ شروع کرایا۔ شہر کی طرح ہی دیہی علاقے کے چمبی پاڑہ ، کوھے ، امبرائی ، کھڑکی ، علاقے کے وارنا ندی سے ملنے والے جنگلات کے چھوٹے بڑے نالے بھر کر بہہ رہے تھے۔

 میونسپل کارپوریشن کے ذریعے 60 فیصد نالے کی صفائی کا کام مکمل کرلینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔  لیکن وقت پر نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کا پانی شہر کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں پر بہہ رہا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے نالے کی صفائی کا پول بدھ کو ہونے والی بارش نے ایک بار پھر مکمل طور پر کھول کر رکھ دیا ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز ہوئی معمولی بارش نے میونسپل انتظامیہ کو متنبہ کردیا تھا۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ اس کے بعد بھی میونسپل افسران ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر کاغذوں پر ہی  نالوں کی صفائی کا کام دیکھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دیر رات شروع ہوئی موسلا دھار بارش کے باعث شہر کی سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ہوگئی تھیں۔  شہر کے مختلف علاقوں کی سڑکوں پر بہہ رہے پانی کی تصویر خود اس کی حقیقت بیان کررہی ہے۔ اس طرح کی انوکھی تصویر شہر میں ایک نہیں بلکہ درجنوں علاقوں میں دیکھنے کو مل رہی تھی۔ شہر کے بنگال پورہ ، زیتون پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بچے سڑکوں پر بہہ رہے پانی سے واٹر پارک کی طرح  لطف اندوز ہو رہے تھے۔ تاہم منگل کی دیر شام میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ نے کھنڈو پاڑہ اور اوچیت پاڑہ سمیت شہر کے متعدد علاقوں کا دورہ کرکے  نالوں کی صفائی کا جائزہ لیا تھا۔ لیکن بارش نے ان کے دورے کے 12 گھنٹوں کے بعد میونسپل انتظامیہ کی پوری تیاری اور نالہ صفائی کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ 

 میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 2 کے تحت  نوی بستی ، نہرو نگر ، رحمت پورہ سمیت پہاڑی کے کنارے بسنے والے لوگوں کو میونسپل کارپوریشن نے چوکس رہنے کی اپیل کرتے ہوئے امکانات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔  میونسپل انتظامیہ نے وہاں بسنے والے لوگوں کی حفاظت سے اپنا پلڑا جھاڑ لیا ہے۔ جس کے لئے پربھاگ سمیتی نمبر 2 کے اسسٹنٹ کمشنر  فیصل تاتلی اور  کلرک کے ذریعے پہاڑی پر آباد ، پہاڑی کے اطراف  ڈھلانوں پر رہنے والے لوگوں کو وہاں نہ رہنے کی اپیل کی ہے۔  انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ  پہاڑی  اور پہاڑی کے ڈھلان پر اگر بارش کے دوران کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری جھونپڑے والوں کی  ہوگی۔ جس کے لئے انہوں نے نوٹس جاری کر مطلع کردیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages