مجلسی ایم ایل اے کے لاڈلے کارپوریٹر پر غنڈہ گردی کا الزام
سلائی کے پیسے مانگنے پر اشتیاق ماسٹر ٹیلر کی جم کر پٹائی
مالیگاؤں(پریس ریلیز ) گذشتہ شب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں خون میں لت پت ایک باریش شخص وہاں موجود لوگوں سے فریاد کررہا ہے۔ اس ویڈیو کلپ کیمطابق زخمی شخص کا نام اشتیاق احمد ہے جو پیشے سے ٹیلر ہے۔
اس ضمن میں حاصل تفصیلات کیمطابق جعفر نگر کے ساکن اشتیاق ماسٹر ٹیلر نے کوآپ کارپوریٹر محمد آمین محمد فاروق کے کپڑوں کی سلائی کرتا ہے اور تقریباً سال بھر سے سلائی کے پیسے باقی تھے۔ بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود آمین کارپوریٹر نے ٹال مٹول کا رویہ اپنائے رکھا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پاورلوم صنعت کی کساد بازاری اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیلر اور درزیوں کے روزگار بھی متاثر ہیں۔ ایسے وقت میں روپیوں پیسوں کی ضرورت کس کو نہیں ہوگی اور پھر بقایا رقم وصول کرنے کیلئے بھی جان توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ آمین کارپوریٹر کی جانب سے بار بار وقت متعین کرنے پر اشتیاق ٹیلر اپنی بقایا رقم کا مطالبہ کرنے پہونچا اور دیگر دوستوں کیسامنے روپیہ طلب کئے جانے پر اشتیاق ماسٹر ٹیلر کو اس کی بقایا سلائی دینے کی بجائے اس کیساتھ غنڈہ گردی کرتے ہوئے مارا پیٹا گیا اور خون میں لت پت بیچارہ اشتیاق ماسٹر ٹیلر جعفر نگر میں لوگوں سے فریاد کرتا ہوا دکھائی دیا جس کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہے۔
کارپوریٹر کی غنڈہ گردی اور خون میں لت پت اشتیاق ماسٹر ٹیلر کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر جاری ہونے کے باوجود مالیگاؤں میں غنڈہ گردی کیخلاف الیکشن لڑنے والے اور غنڈہ گردی کیخلاف واویلا مچانے کے ٹھیکیدار اس غنڈہ گردی اور ناانصافی کیخلاف ابھی تک خاموش ہیں سوشل میڈیا پر ایک بھی مذمتی پوسٹ نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی اس غنڈہ کارپوریٹر کیخلاف پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کرنے کا بیان یا اوپر تک بات کرنے کا فرمان جاری نہیں ہوا نجانے کس بل میں گھسے ہوئے ہیں۔
اس ضمن میں ملی دیگر جانکاری کے مطابق اشتیاق احمد کی فریاد پر پوار واڑی پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے لیکن کارپوریٹر آمین فاروق کو تادمِ تحریر گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ کچھ معزز لوگ معاملہ کو آپس میں حل کرنے کا دباؤ بھی بنارہے ہیں۔ جبکہ غنڈہ گردی کیخلاف واویلا مچانے والوں کی خاموشی معنی خیز ہے۔






کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں