انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) 38/ ملزمین کی پھانسی کی سزاؤں کے خلاف داخل اپیل پر گجرات ہائی کورٹ میں سماعت مکمل
عدالت سے انصاف کی امید، جمعیۃ علماء نے ملک کے نامور وکلاء کو پیش کیا :
مولانا حلیم اللہ قاسمی
احمد آباد9/ مئی : گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ کی گجرات ہائی کورٹ میں گذشتہ ایک سال سے جاری حتمی بحث کا کل اختتام عمل میں آیا جس کے بعد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا اسی درمیان گجرات ہائی کورٹ نے 8/ سے 12/ جون کے درمیان فریقین کے وکلاء کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ ضرورت محسوس ہونے پر وہ عدالت کی مدد کرسکیں، جولائی کے اخیر میں عدالت فیصلہ ظاہر کرسکتی ہے۔گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل پر حتمی سماعت کررہی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے گذشتہ ایک سال سے اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کررہے تھے، دو رکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کی۔ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے قانونی امداد فراہم کی ہے۔گجرات ہائی کورٹ میں حتمی سماعت مکمل ہونے پرصدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کی ہے تاکہ منظم و موثر طریقے سے ملزمین کے مقدمات کی پیروی کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگامتھو(سبکدوش جج مدراس ہائیکورٹ)، سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن، سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی، ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری، ایڈوکیٹ ہردے بوچ، ایڈوکیٹ سومناتھ نے بحث کی ہے جبکہ سینئر وکلاء کی معاونت ایڈوکیٹ خالد شیخ، ایڈوکیٹ پایوشی رائے، ایڈوکیٹ سدھارتھ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ استوتی رائے، ایڈوکیٹ بلال نظامی، ایڈوکیٹ ارجن و دیگر نے کی تھی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جس طرح سے دفاعی وکلاء نے بحث کی ہے انہیں امید ہے کہ دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کا سامنا کررہے ملزمین کو ہائی کورٹ سے انصاف حاصل ہوگا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مفتی عبدالقیوم منصوری(صدر جمعیۃ علماء احمد آباد) اور ان کے رفقاء کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے سے لیکر سماعت مکمل ہونے تک ہر طریقے سے اپنا تعاون پیش کیا۔گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔7015/ صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔ اس مقدمہ کاسامنا کررہے بیشتر ملزمین کو نچلی عدالت سے لیکر ہائیکورٹ تک جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے قانونی امداد فراہم کی ہے۔کل سماعت مکمل ہونے کے بعد ملزمین اور ان کے اہل خانہ نے جمعیۃعلماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی اور ان کی پیروی کرنے والے تمام وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں