src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> - مہاراشٹر نامہ

 

 

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

بدھ، 22 اپریل، 2026

 

مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ : دو دہائی سے متاثرین انصاف کے منتظر، ہائی کورٹ نے چار ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا


سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے تعلق سے وکلاء سے مشورہ کیا جائے گا : مولانا حلیم اللہ قاسمی








ممبئی22/ اپریل: مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ میں ماخوذ چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرماکو آج بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پرمقدمہ سے ڈسچارج کردیا۔چیف جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ اور جسٹس شیام چانڈک نے فیصلہ ظاہر کیا۔دوران سماعت قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کے خلاف متعدد گواہان نے گواہی دی ہے لیکن عدالت نے ان گواہان کی گواہی کو نا کافی کہا۔اس مقدمہ سے 9/ مسلم ملزمین کو کلین چٹ دینے کے بعد این آئی اے نے چار ملزمین دھان سنگھ، لوکیش شرما، راجندر چودھری اور منوہر رام سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔
مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نے پہلے نچلی عدالت میں ڈسچارج داخل کیا تھا جہاں این آئی اے اور بم دھماکہ متاثرین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے اس کی مخالفت کی تھی جس کے بعد نچلی عدالت نے ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی بجائے گواہی شروع کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا اور عدالت نے سرکاری گواہان کو گواہی کے لیئے طلب کیئے جانے کے لیئے سمن بھی جاری کیا تھا۔ خصوصی این آئی اے عدالت کے فیصلے کے خلا ف ملزمین نے بامبے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جہاں ملزمین نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے نے انہیں جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کو راحت دی ہے جبکہ یہ بم دھماکے مسلم ملزمین نے ہی کیئے تھے۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اسیما نند نامی ایک شخص کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اسیما نند خود مقدمہ سے بری ہوچکا ہے نیز سات سالوں کے طویل وقفے کے بعد گواہان نے ملزمین کی شناخت کی ہے اور یہ شناخت بھی محض خانہ پری ہے۔سائیکل خریدنے کے متعلق گواہان کے بیانات انتہائی کمزور ہیں کیونکہ ان بیانات کو نہایت تاخیر سے درج کیا گیا ہے۔
دوران سماعت عدالت نے این آئی اے سے جواب طلب کیا کہ وہ عدالت کو بتائیں کے عرض گذار ملزمین کے خلاف کونسے عینی شاہدین نے گواہی دی ہے جس پر این آئی اے نے قبول کیا کہ ملزمین کے خلاف کوئی بھی عینی شاہدین نے گواہی نہیں دی ہے لیکن ملزمین ایک مجرمانہ سازش کا حصہ ہیں لہذا انہیں مقدمہ سے ڈسچارج نہیں کیا جاسکتا ہے۔آج کی عدالتی کارروائی پر مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ کے ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے والے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کرنے کے تعلق سے سینئر وکلاء سے مشورہ کیا جائے گا۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی گئی ہے جو زیر سماعت ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دہشت گردی جیسے سنگین مقدمہ کی تفتیش کرنے والی اعلی تفتیشی ایجنسی کو عدالت میں شکست ہوئی ہے۔ مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ، حیدرآباد مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ، سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکہ مقدمہ، اجمیر درگاہ بم دھماکہ مقدمہ، جالنہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ و دیگر شامل ہیں۔8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ واربم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔آج کے بامبے ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سیشن عدالت سے ہند و مسلم تمام ملزمین بری ہوچکے ہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بم دھماکے کس نے کیئے تھے، 20/ سالوں کے انتظار کے بعد بھی بم دھماکہ متاثرین انصاف سے محروم ہیں۔اس معاملے کی تفتیش مقامی پولس، مہاراشٹر اے ٹی ایس، سی بی آئی اور این آئی اے نے بالترتیب کی تھی لیکن آج کے فیصلے سے یہ واضح ہوتا  ہیکہ ان تمام تفتیشی ایجنسیوں کی جانچ عدالتوں میں نا قابل قبول ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages