حکیم طارق قاسمی کی ضمانت عرضداشتوں پر سماعت کرنے کے لئے لکھنؤ ہائی کورٹ تیار
حکیم طارق قاسمی کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کی جارہی ہے : مولانا حلیم اللہ قاسمی
ممبئی4/ مارچ 2026حکیم طارق قاسمی و دیگر ملزمین کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت لکھنؤ سیشن عدالت کی جانب سے ملنے والی عمر قید کی سزا کے خلاف داخل اپیل پر گذشتہ کل الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے تقریباً بیس سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ملزم حکیم طارق قاسمی اور محمد اختر کشمیری کی ضمانت عرضداشتوں پر سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔سینئر ایڈوکیٹ رشاد مرتضی کی درخواست پر عدالت نے فیض آباد مقدمہ کی سماعت بھی ایک ساتھ کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔اس سے قبل بھی دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر یکجا سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا لیکن بینچ میں تبدیلی کی وجہ سے سماعت نہیں ہوسکی تھی۔
لکھنؤ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کی جسٹس رنجش کمار اور جسٹس ظفیر احمد کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزمین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ رشاد مرتضی نے بتایا کہ ملزمین تقریباً دو دہائیوں سے سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں نیز ملزمین کی اپیلوں پر گذشتہ چھ سالوں سے سماعت نہیں ہوسکی ہے لہذا ملزمین کی ضمانت عرضدشتوں پر سماعت کی جائے جس کے لیئے بینچ راضی ہوگئی ہے۔سینئر ایڈوکیٹ رشاد مرتضی نے عدالت کو مزید بتایا کہ انہوں نے اضافی حلف نامہ 20/ جنوری 2026/ کو داخل کیا تھا جو عدالت کے ریکارڈ پر نہیں ہے لہذا اسے عدالت کے ریکارڈ پر لیا جائے، عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے اضافی حلف نامہ کو ریکارڈ پر لیا اور سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر حلف نامہ پر اپنا جواب داخل کرے۔ دوران سماعت نمیش کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ بھی سینئر ایڈوکیٹ نے بینچ کو دیا جس کے جواب میں عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ نمیش کمیشن کی رپور ٹ عدالت میں پیش کرے تاکہ دورن سماعت عدالت اس کا بھی جائرہ لے سکے، نمیش کمیشن رپورٹ نے حکیم طارق قاسمی اور دیگر ملزمین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسائے جانے کی رپورٹ پیش کی تھی اس کے باوجود ریاستی حکومت نے ملزمین کے خلاف قائم جھوٹے مقدمات کو واپس نہیں لیا تھا۔سال 2012/ میں آر ڈی نمیشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکیم طارق قاسمی اور خالد مجاہد (مرحوم) کی 2007/ بم دھماکوں میں گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھااور گرفتاری کے بعد انہیں شدید ٹارچر کیا گیا تھا۔حکیم طارق قاسمی کے مقدمہ کے تعلق سے جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے ممبئی میں اخباری نویسیوں کو بتایا کہ حکیم طارق قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کی جارہی ہے، طارق قاسمی کی ایماء پر ان کے مقدمہ کی پیروی کرنے کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ کی تقرری کی گئی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ اسے حکیم طارق قاسمی کی بدقسمتی کہئے یا برسراقتدار کی زیادتی کیونکہ سرکار کی ہی جانب سے بنائے گئے نمیش کمیشن کی رپورٹ کو سرکارنے قبول کرنے سے انکا ر کردیا۔سرکار اگر نمیش کمیشن کی رپورٹ 2012/ میں ہی قبول کرلیتی تو حکیم طارق قاسمی کو ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کرنا پڑتی اور چودہ سال قبل ہی ان کی جیل سے رہائی ہوجاتی اور انہیں سیشن عدالت سے عمر قید کی سزا بھی نہیں ہوتی۔واضح رہے ملزم طارق قاسمی کو چار مقدمات میں سیشن عدالت سے عمر قید کی سزا ملی تھی، سیشن عدالت کے فیصلوں کے خلاف علیحدہ علیحدہ اپیلیں لکھنؤ اور الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔بارہ بنکی اور گورکھپور مقدمات میں حکیم طارق قاسمی کو ہائیکورٹ سے ضمانت مل چکی ہے جبکہ فیض آباد اور لکھنؤ مقدمات ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت کی جانب سے بقیہ دونوں مقدمات کی سماعت ایک ساتھ کیئے جانے کے حکم سے سالوں سے التوء کا شکار اپیلوں پر سماعت کا راستہ صاف ہوگیا ہے، آئند سماعت پر دو رکنی بینچ یا تو ضمانت عرضداشتوں پر سماعت کریگی یا نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں پر۔دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ رشاد مرتضی کی معاونت ایڈوکیٹ او پی تیواری، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان پٹھان و دیگر نے کی۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں