ترانہ مدرسہ تحفیظ القرآن
نتیجۂ فکر: محمد ضیاء العظیم قاسمی،
سابق متعلم: مدرسہ تحفیظ القرآن، سمن پورہ پٹنہ ۔
موبائل نمبر : 7909098319
معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ویشالی بہار ۔
یہ رشدو ہدی کا مظہر ہے یہ گلشنِ دینِ رحمانی
ہر لمحہ یہاں پر ہوتی ہے برسات علومِ قرآنی
گونجی تھی جو وادیِ فاراں میں پرنور اذانِ اقرأ کبھی
لا ریب کہ "تحفظ ِقرآں" سے آتی ہے وہی آواز ابھی
یہ کاخِ فقیری ہے لیکن جھکتی ہے یہاں پر سلطانی
انسان کی ہم کیا بات کریں کرتے ہیں فرشتے دربانی
بغداد و بخارا کوفہ میں روشن جو ہوا کرتا کبھی
اس درس گہِ علم و دانش میں جلتا ہے چراغ طور وہی
اس دارِ علومِ قرآں میں ہرآن ہے فضلِ سبحانی
ہر رت ہے یہاں کی کیف آگیں ہر رنگ یہاں کا نورانی
شوکت کا لگایا یہ پودا پھیلے گا پھولے گا چمکے گا
آغوش میں پل کر قیصر کی،یہ پھول برابر مہکے گا
یہ بستی سمن پورہ ہے جہاں فیضان کا چشمہ جاری ہے
اس بستی کے چپے چپے پر اخلاص و مروت طاری ہے
یہ باغ ہے وہ باغِ علمی ، ہر پھول ہے جس کا مہ پارہ
ہر گوشہ یہاں کا دل آرا ہر ذرہ یہاں کا شہ پارہ
اس پیڑ کے پھلنے پھولنے میں کردار ہے عبد رحماں کا
ہر پیڑ کی ہر اک ڈالی میں ہے نام مطیع رحماں کا
جمشید ،قمر ہشام ، انور ، میخانہ کے یہ سب ہیں ساقی
نورِ زماں ،ذہبی ، شائق ہر شخص یہاں ہے آفاقی
اس وادی فن میں جہاں اکرم ، طلباء کے لیے ہیں فیض عمیم
ہیں بادِنسیم گلشن کے لیے جبار کے بندے، قمر نسیم
ہے دل سے دعا یہ میری ضیاء یہ گلشنِ دیں آباد رہے
ہر شخص یہاں شاداب رہے گل شاد رہے دل شاد رہے


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں