سنجے راؤت کا حکمراں طبقے پر حملہ، راج ٹھاکرے کی پیشکش کو غیر معمولی قرار دیا، مہاراشٹر میں سیاسی تبدیلی کی ہواؤں کا دعویٰ
ممبئی : شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے گروپ) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے پیر کے روز کہا کہ شِو تیرتھ میں ٹھاکرے برادران کی مشترکہ ریلی محض عوام کا اجتماع نہیں تھی بلکہ یہ حکمراں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گہرے عوامی غصے کا اظہار تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی ریلی نے پورے مہاراشٹر میں سیاسی تبدیلی کی ہوائیں چلا دی ہیں۔
مسٹر سنجے راؤت نے کہا کہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کی تقاریر صرف شِو تیرتھ میں موجود بڑے مجمع نے ہی نہیں سنیں بلکہ انہیں مہاراشٹر، ملک بھر اور بیرون ملک رہنے والے مراٹھی عوام نے بھی بغور دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے خطابات نہایت پرجوش تھے اور پیغام مہاراشٹر کے ہر کونے تک پہنچ چکا ہے۔
راج ٹھاکرے کی جانب سے اڈانی گروپ پر پیش کی گئی تفصیلی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے راؤت نے کہا کہ اس نوعیت کی دستاویزی اور شواہد پر مبنی پیشکش ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والے حقائق چونکا دینے والے ہیں اور یہ سنگین سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا پورا ملک ایک ہی صنعت کار کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
مسٹر راؤت نے الزام عائد کیا کہ نوی ممبئی میں ہوائی اڈے کی منتقلی کی کوششیں اور دھاراوی کی بازآباد کاری کے نام پر مبینہ زمین ہتھیانے جیسے معاملات کو بھی دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق اب ’’سب بھومی گوتم اڈانی کی‘‘ کا نعرہ محض نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاری کے موضوع پر پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے راؤت نے کہا کہ وہ سرمایہ داری کے مخالف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق بالا صاحب ٹھاکرے کا ماننا تھا کہ صنعت کار زندہ رہیں گے تو مزدور بھی زندہ رہیں گے اور ترقی سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہے، مگر موجودہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ون ونڈو سسٹم کے غلط استعمال کے ذریعے کھلی لوٹ ہے۔ انہوں نے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عام شیو سینک کے دس بارہ لاکھ روپئے کے لین دین کی جانچ ہوتی ہے، مگر بی جے پی لیڈران کے مبینہ 124 کروڑ روپئے کے اثاثے نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں