آہ! مرحوم شاکر بھائی منڈپ والےاچانک اللّٰہ کو پیارے ہوگئے
اس ناگہانی موت پر صرف اہلِ خانہ ہی نہیں متعلقین بھی سوگوارہیں
اک اٹل حقیقت ہےموت سب کوآنی ہے
بس خداکےقبضےمیں سازِزندگانی ہے
ہمیشہ ہونٹوں پرمسکراہٹ سجائے،انتہائی خلوص کےساتھ ملنےوالاایک شخص جسے بھیونڈی شہرمیں لوگ *شاکربھائی منڈپ والے* کےنام سےجانتےپہچانتےتھے،آج اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے اللہ تعالیٰ کوپیارےہوگئے *اناللہ واناالیہ راجعون*
یوں تودنیامیں جوبھی آتاہےاسےمنجانب اللہ حیاتِ فانی کی مقررہ مدت پوراکرتےہی اَجَل دبوچ لیتی ہے موت کا بہانہ کچھ بھی ہو پریہ اسی اٹل فیصلے کاشاخسانہ ہوتاہے حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تعزیتی پیغام اسی کاغمازہے *ان للہ مااخذولہ مااعطی وکل شئ عندہ باجل مسمیٰ*
بہرکیف اسی اٹل حقیقت کےتحت *شاکربھائی منڈپ والے* بھی وفات پاگئے،البتہ ان کےاچانک فوت ہوجانےکاغم جہاں ان کے *اہلِ خانہ اورکنبہ* کےلئےصدمۂ جانکاہ ہےوہیں ان کے متعلقین کےلیےبھی سوہانِ روح ہے۔
*لَولگاتےہوکیوں اس جہاں سے*
*ربط ٹوٹےگااس گلستاں سے*
بہرحال وہ نہایت سادہ مزاج خوش اخلاق اورمیری دانست کےمطابق ایک غریب پرور انسان تھے خاص طور پرغریب بچیوں کی شادی کےموقعہ پربڑی فراخدلی سےکام لیتےتھےجوممکن ہوتاخودکرتےاوراپنےدوستوں کوبھی متوجہ فرمایاکرتےتھے۔
غالباًوہ اصلاً *صوبہ جھارکھنڈ* کےرہنےوالےتھےلیکن بھیونڈی کی سرزمین انھیں ایسی راس آئی کہ یہیں کےہوکررہ گئےتھے،اہلِ مدارس اور اسکولوں میں منڈپ سجاتےاوربڑی رعایت کیاکرتےتھے،بالخصوص جامعہ سراج العلوم بھیونڈی کےسالانہ اجلاسِ دستاربندی اوردیگرمواقع پر *جامعہ کےناظمِ اعلٰی مفتی لئیق احمدصاحب قاسمی اورصدرالمدرسین حضرت مولاناحلیم اللہ صاحب قاسمی* جب راقم الحروف یا قاری انصاراحمدصاحب کےتوسط سے *مرحوم شاکربھائی* کوبلواکرمنڈپ سازی کا مکلف کرتےتووہ بڑی خنداں پیشانی سےاپنی نگرانی میں منڈپ سجانےکاکام کرواتےتھے
حسنِ کارکردگی کےبموجب سیاسی اورسماجی پروگراموں میں بھی لوگ ان سے رجوع کیاکرتےتھے،میں نےبہت زیادہ ان کی زندگی کےنشیب وفرازکامشاہدہ تونہیں کیاالبتہ گذشتہ چار پانچ سالوں سے ان کے *الحفیظ ہال نزدطیب مسجدقاسم پوراروڈبھیونڈی* میں *چھ روزہ تراویح* پڑھانےکےدوران یہ محسوس ضرور کیاکہ شاکربھائی کو علماءکرام اوردین دار طبقہ سےبڑی والہانہ محبت ہے29/شعبان المعظم ہی کوپورامنڈپ سجادیتےاورمصلیانِ کرام کےلئےبہترین غالیچےبچھواتےمائک وغیرہ کاشاندارنظم کرکےسراپامنتظررہتےکہ اب اہل اللہ کی خدمت کاموقعہ آگیاہےپھرایسےحسنِ سلوک سے لوگوں کا استقبال کرتے کہ وہ منظر کبھی بھلایا نہیں جاسکتا
*ارشادمومن(پپوبھائی)،جناب عبدالسلام نعمانی صاحب،حافظ اصغرعلی مجیدی صاحب،محترم اخترابن مرحوم اکبرعلی صاحب،میولاناناصرجمال صاحب قاسمی،محترم نفیل احمد مومن صاحب،جناب سلیم محمدزماں،محترم راحیل مومن صاحب،مولانامحمدایوب صاحب قاسمی،مولاناسرفرازاحمدقاسمی،دانش بھائی اورنہ جانے کتنے احباب جن میں علماء،صلحاء،دانشورانِ شہر،نوجوان ساتھی اوربچےشریکِ تراویح رہتےاورشاکربھائی مرحوم* کی بشاشتِ وجہ وقلب سےمتاثرہوئےبغیرنہیں رہ سکتے تھے،تراویح سےفارغ ہوکرسب کےلئےدسترخوان چن دیاجاتا اورسب کوکھاناکھلاکرہنسی خوشی رخصت کرکےاگلےدن کے انتظامات میں جٹ جاتےاورختمِ قرآن کےموقعہ پرکبھی *حضرت مولانافیاض أحمدصاحب قاسمی،کبھی حضرت مولاناسیدمفتی محمدحذیفہ صاحب قاسمی کوبلاتےاورختم کےروزعام دعوتِ طعام میں بڑی تعداد میں علماء،حفاظ اور احباب کاجم غفیرامڈآتاتھادعائیں ہوتیں اورایک عجیب نورانی سماں الحفیظ ہال میں نظرآتاتھا*
اورتراویح لوازمات کایہ معمول صرف چھ ہی روز نہیں پورے رمضان المبارک کے مہینے میں جاری وساری رہتا،چھ روزہ بڑی تراویح ختم ہونے کےبعد *حضرت مولانا ناصر جمال صاحب،مولانامحمدساجدصاحب قاسمی،مولانامحمدایوب صاحب قاسمی وغیرہ* کی امامت میں پورے مہینہ تراویح کاسلسلہ جاری رہتااورتمامترانتظامات پورےمہینےرہتے
مجھ سےمرحوم شاکربھائی یہ کہاکرتےکہ رمضان المبارک کی اس معمولی سی خدمت کی برکت سے قلبی سکون ملتا ہے اوراس کی برکات پورےسال نظرآتی ہیں
الغرض ایک پردیسی بھائی نےشہربھیونڈی میں فروکش ہوکرلوگوں کے دلوں میں اپنی حسنِ سیرت سےجگہ بنائی اورآج اچانک وہ رخصت ہوگیا آج ہی *الہدایہ پبلک اسکول بھیونڈی کےڈائرکٹرہمارےبہت ہی مخلص کرم فرماعالیجناب وصی اللہ سرصاحب* جامعہ سراج العلوم بھیونڈی میں اپنے پروگرام کا دعوت نامہ دینےآئےاورشاکرمرحوم کی مرگِ مفاجات پر افسوس کا یوں اظہار کرتےگئےکہ ہمارے اکثر پروگراموں کوشاکرمرحوم ہی اپنے عملہ کےساتھ سجایاکرتےتھے،ان کےاچانک انتقال سےدل پر کافی تاثرہے
خیرجانےوالاچلاگیااوردلوں پرگہرےنقوش چھوڑگیا
*مرگ توڑدیتی ہےجوش وولولےپل میں*
*کیوں یقیں نہیں آتایہ جہان فانی ہے*
اللہ تعالیٰ سےدعاہےکہ اللہ تعالیٰ اپنےرحم وکرم کامعاملہ فرمائے،ان کی سیئات وزلات سےدرگزفرماکران کی نیکیوں کوقبول فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے۔آمین
نیزتمام لوگوں سے گزارش ہے کہ مرحوم کےحق میں ایصالِ ثواب اوردعائےمغفرت فرمائیں
رب کریم اہلِ خانہ اور تمام پسماندگان کو صبروسکون نصیب فرمائے،آمین یارب العالمین بجاہِ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
ایں دعا ازمن و ازجملہ جہاں آمین باد
از قلم: مفتی حفیظ اللہ حفیظ قاسمی ناظمِ تعلیمات جامعہ سراج العلوم بھیونڈی وناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر*


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں