این سی پی کانگریس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کر رہی ہے۔
نانا پٹولے کی سونیا گاندھی سے شکایت، جلد دکھائی دے گا اثر ۔
ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اگر این سی پی اسی طرح کانگریس کے خلاف کام کرتی رہی تو کانگریس مہاوکاس اگھاڑی سے باہر نکل سکتی ہے۔ این سی پی نے پچھلے ڈھائی سالوں میں جو کچھ بھی کیا ہے، میں نے اسے شکایت کی شکل میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے شیئر کیا ہے۔
انہوں نے میری شکایت کو سنجیدگی سے لیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا نتیجہ بھی دیکھنے کو ملے گا! نانا پٹول کے اس بیان سے مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال آگیا ہے۔ ایک طرف جہاں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی بی جے پی اور راج ٹھاکرے سے ٹھنی ہوئی ہے ۔ وہءں دوسری طرف مہا وکاس اگھاڑی حکومت خود آپس میں لڑائی لڑ رہی ہے۔ یہ تنازعہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ این سی پی اور کانگریس کے لیڈر جو کبھی پرانے دوست تھے، ان دنوں ایک دوسرے پر شدید الزامات لگا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے براہ راست این سی پی کی شکایت کانگریس صدر سونیا گاندھی سے کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی کانگریس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی پی دھیرے دھیرے مہاراشٹر میں کانگریس کو کمزور کرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ اگر این سی پی اپنی حرکات کو بہتر نہیں کرتی ہے تو آنے والے دنوں میں کانگریس گٹھ بندھن سے نکلنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ این سی پی نے پہلے بھیونڈی میں پارٹی کے 17 کونسلروں کو توڑکر اپنے ساتھ ملا لیا ہے . اس کے بعد امراوتی میں بھی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ یہ سلسلہ بھنڈارہ اور گونڈیا میں بھی دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی بالواسطہ طور پر بی جے پی کو سپورٹ کر رہی ہے۔ یہ سب باتیں میں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بتائی ہے . نانا پٹولے نے بتایا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت مشترکہ کم سے کم پروگرام کے تحت چلانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے اب اس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی دوستی کی آڑ میں کانگریس کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کانگریس اور این سی پی کے درمیان رسہ کشی ہوچکی ہے ۔ اس سے پہلے بھی جب پٹولے این سی پی پر خنجر گھونپنے کا الزام لگایا تھا ، تب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے کہا تھا کہ پٹولے کو کچھ بھی بولنے سے پہلے اپنے ماضی کو دیکھنا چاہیے۔ اس سوال پر پٹولے نے کہا کہ پورے مہاراشٹر اور ملک کو معلوم ہے کہ میں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کیوں چھوڑی؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے پاس این سی پی کے بارے میں کہنے کو زیادہ نہیں ہے، کانگریس ہائی کمان اس معاملے پر جلد ہی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کانگریس میں تنظیمی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملے گی۔ ریاست میں پارٹی کے اندر بھی انتخابی عمل کو مکمل کرنا ہوگا۔ پٹولے راجستھان کے ادے پور میں جاری تین روزہ غور و فکر کیمپ میں شرکت کے بعد آج مہاراشٹر واپس لوٹے ہیں۔ ۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں